آزاد کشمیر کے دیہی علاقوں میں صدیوں پرانی گھاس کٹائی کی روایت’’لیتری‘‘ کا رنگا رنگ سیزن شروع

آزاد کشمیر کے سرسبز و شاداب دیہی علاقوں میں صدیوں پرانی گھاس کٹائی کی روایت آج بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ زندہ و جاوید ہے۔ گھاس کٹائی کے اس مخصوص سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی کسانوں نے کھیتوں اور بلند ڈھلوانوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں دیہی زندگی کے باہمی تعاون اور محبت کی ایک منفرد جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

اجتماعی محنت اور روایتی رسم ’’لیتری‘‘:

گھاس کٹائی کے اس عمل کے دوران تمام مرد حضرات مل جل کر اجتماعی انداز میں گھاس کاٹتے ہیں، جبکہ اس دوران گھروں کی خواتین تمام محنت کشوں کے لیے روایتی اور لذیذ کھانا تیار کرتی ہیں۔ کام مکمل ہونے کے بعد تمام دیہاتی ایک جگہ جمع ہو کر اجتماعی طور پر کھانا کھاتے ہیں۔ اس موقع پر صدیوں پرانی روایتی رسم ’’لیتری‘‘ بھی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منائی جاتی ہے، جس میں ڈھول کی تھاپ اور روایتی بھنگڑے اس ماحول کو مزید گرما دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی روایتی پہچان؛ کشمیری کلچہ اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور صدیوں پرانی تاریخ کے ساتھ آج بھی مقبول

 

ثقافتی اہمیت اور نسل در نسل منتقلی:

مقامی افراد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’’لیتری‘‘ کی یہ خوبصورت روایت نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے اور آج بھی آزاد کشمیر کے دیہی علاقوں میں اسی عقیدت اور جوش سے برقرار ہے۔ یہ روایت محض گھاس کاٹنے کے عمل تک ہرگز محدود نہیں ہے، بلکہ یہ آزاد کشمیر کی انمول دیہی ثقافت، بھائی چارے اور اجتماعی زندگی کا ایک انتہائی اہم اور ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔