کراچی :گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خود انحصاری کے تحت ’پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ‘ اسکیم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جس کے تحت بینکاری ذرائع سے پیسے بھیجنے والوں کو ہر سال 16 ارب روپے کے نقد انعامات دئیے جائیں گے۔
مارکیٹ کی بنیاد پر انعامات دینے کی یہ منفرد اسکیم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام شروع کی گئی ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ملکی معیشت کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں سرمایہ کاری،عمران عزیز کا اوورسیز کشمیریوں کو آگے آنے کا مشورہ
جمیل احمد نے بتایا کہ فروری 2023 میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر گر کر محض 3.0 ارب ڈالر رہ گئے تھے جو اب بہترین حکمتِ عملی کی بدولت بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ چکے ہیں، ماضی کے برعکس یہ ذخائر بیرونی قرضے لے کر نہیں بلکہ مارکیٹ سے زرمبادلہ خرید کر بڑھائے گئے ہیں۔
انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کارکنوں کی ترسیلاتِ زر مالی سال 19 میں 21.7 ارب ڈالر تھیں جو مالی سال 26 میں تقریباً دگنا اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، زرمبادلہ ذخائر 3 ارب سے بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہوگئے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اسکیم کے تمام اخراجات بینکنگ انڈسٹری خود برداشت کرے گی اور قومی خزانے پر اس کا ایک روپے کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
اسکیم کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلاتِ زر کیلیے قانونی اور باضابطہ ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
یہ اسکیم خود انحصاری کے تحت مارکیٹ کی بنیاد پر کام کرے گی تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات بینکاری کے باضابطہ ذرائع سے وطن بھجوانے میں آسانی فراہم کی جائے، انہیں ترغیب دی جائے اور اس طرح ترسیلات حاصل کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی ترسیلات پاکستان کے طول و عرض میں مقیم لاکھوں خاندانوں کیلئے آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں، ان ہی ترسیلات سے ان کے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں، تعلیم اور صحت کی سہولت حاصل ہوتی ہے، اور سرمایہ کاری اور اقتصادی مواقع کیلیے وسائل مہیا ہوتے ہیں۔
پی بی اے کے سی ای او منیر کمال نے اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی جس میں یکم اکتوبر 2026 سے 31 دسمبر 2026 کے دوران آنے والی ترسیلات شامل کی جائیں گی۔
یہ قرعہ اندازی مکمل ڈجیٹل اور شفاف ہوگی اور اسکیم میں شرکت بالکل مفت ہے۔ اسکیم کے تحت ہر سال 10,000 سے زائد خوش نصیبوں میں انعامات تقسیم ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے اوورسیز پاکستانیوں کے لیےسینیٹ کمیٹی کی ٹیکسوں میں کمی کی سفارش
ہر سہ ماہی میں 4 ارب روپے مالیت کے 2521 نقد انعامات دئیے جائیں گے،پہلا انعام: 10 کروڑ روپے کا ایک انعام، دوسرا انعام: 2.5 کروڑ روپے کے 20 انعامات، تیسرا انعام: 1 کروڑ روپے کے 100 انعامات، چوتھا انعام: 10 لاکھ روپے کے 2,400 انعامات ہوں گے۔
کون اہل ہوگا؟
ایسا وصول کنندہ جو کسی بھی سہ ماہی میں لگاتار 3 ماہ تک اپنے بینک اکاؤنٹ میں ماہانہ 100 یا اس سے زائد ڈالر وصول کرے گا۔ ہر 100 ڈالر پر ایک ڈیجیٹل انٹری نمبر ملے گا، اور رقم جتنی زیادہ ہوگی، اتنے ہی زیادہ ٹکٹ (انٹریز) ملیں گے۔
کوٹہ سسٹم
انعامات کا 50 فیصد خلیجی ممالک، 15 فیصد برطانیہ، 15 فیصد یورپ، 10 فیصد شمالی امریکہ اور 10 فیصد دیگر ممالک کیلئے مختص کیا گیا ہے، جبکہ پہلا بڑا انعام تمام خطوں کیلئے اوپن ہوگا۔
اسکیم کے نتائج کا اعلان پاسبان کی مخصوص ویب سائٹ، اسٹیٹ بینک، پی بی اے اور بینکوں کے سوشل میڈیا پیجز پر کیا جائے گا۔




