پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
نجی ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے دعویٰ کیا ہےکہ سیاسی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ سمیت تمام پارٹی رہنماؤں نے اب تک کے لانگ مارچ سے متعلق بننے والی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور راستے کی رکاوٹوں، بالخصوص موٹروے پر موجود رکاوٹوں کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 4اکتوبر تک لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ابتدائی طور پر صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے تجویز دی کہ فی الحال مارچ کو ملتوی کر دینا چاہیے کیونکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔
دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ہمارے ساتھ احتجاج میں شرکت پر آمادہ کرلیا جائے تو احتجاج کا اثر زیادہ ہوگا۔ اس تجویز پر پارٹی اجلاس میں موجود کئی دیگر ارکان نے بھی اتفاق کیا۔
بیرونِ ملک مقیم ایک پارٹی رہنما نے اجلاس میں تجویز دی کہ اگر فی الحال مارچ ملتوی کرنا ہے تو کر دیا جائے تاہم تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے جس پر اجلاس میں موجود ایک رہنما نے اعتراض کیا کہ اگر تاریخ نہیں دی جائے گی تو کارکن مشتعل ہوں گے جس کی دیگر ارکان نے بھی حمایت کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ 4 اکتوبر کو صوابی کے لیے روانہ ہوا جائے گا اور 5 اکتوبر کو صوابی سے اسلام آباد کے لیے روانگی ہوگی، اس تجویز پر تمام ارکان نے اتفاق کیا تاہم پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ باضابطہ اعلان اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو اعتماد میں نہ لے لیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن علامہ راجہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن محمود اچکزئی کو فون کریں تاہم بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ خود انہیں فون کر لیں تو زیادہ بہتر ہوگا جس پر وزیراعلیٰ نے حامی بھر لی اور کہا کہ وہ دونوں رہنماؤں سے خود بات کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے جبکہ پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز کے معاملے کا بھی سامنا ہے جو لانگ مارچ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن رہا ہے۔ ماضی میں علی امین گنڈاپور پارٹی کے ساتھ مالی طور پر تعاون کرتے رہے ہیں تاہم اس بار پارٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی میں اختلافات بڑھ گئے، اکثریتی ارکان کی لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر بھی ایک جلسے میں پارٹی کو درپیش مالی مشکلات کا اظہار کرچکے ہیں اور انہوں نے تمام ارکانِ اسمبلی سے مالی تعاون کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے مارچ کے حوالے سے پارٹی کے اجلاس جاری تھے اور گزشتہ اجلاسوں میں بھی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی رائے سامنے آ چکی تھی۔




