مکہ معاہدہ،تنیوں چیفس آف جنرل اسٹاف کا اجلاس، سعودی عرب کے دفاع کا عزم

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوک بائراکتاروغلو اور مملکتِ سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ممالک کے سربراہانِ دفاعی افواج اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اجلاس میںسربراہانِ دفاعی افواج اور چیفس آف جنرل اسٹاف نے سکیورٹی کی صورتحال اور مملکتِ سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

شرکاء نے مقدس شہر مکہ اور شہری و اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

شرکاء نے عوام کے تحفظ اور مملکت کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔

شرکاء نے تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے اور انٹیلی جنس کے تبادلے، عسکری ہم آہنگی اور صلاحیتوں کے انضمام کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیاتاکہ ڈیٹرنس (دفاعی قوتِ مدافعت) اور اجتماعی دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔

شرکاء نے ان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو سراہا جو تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہم نے تو ابھی آغاز کیا ،ترک وزیر خارجہ کا مکہ معاہدے پر تنقید کرنیوالوں کو منہ توڑ جواب

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں  اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس ان کی دفاعی شراکت داری کی مضبوطی اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو فوری طور پر مؤثر عسکری تعاون میں بدلنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

شرکاء نے اجتماعی دفاع کے لیے اپنے عزم کا پختہ اعادہ کیا اور اس طرح مملکتِ سعودی عرب کی سکیورٹی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تینوں ممالک کے پختہ ارادے کا اظہار کیا۔