نیویارک (کشمیر ڈیجیٹل)وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمین الشرفین ہماری ریڈ لائن ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ حرمین الشریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مکہ معاہدہ کسی کیخلاف نہیں صرف امن کیلئے ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا 5اکتوبر تک لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ خطے میں امن وامان کے قیام کیلئے پاکستان نے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بیٹھایا۔
بھارت جھوٹا بیانیہ بنا کر حملہ آور ہوا ،پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور اپنا دفاع کیا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کرینگے
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کر رہا ہوں جو میرے لئے ااعزاز کی بات ہے
انہوں نے 240 ملین پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی متحرک قیادت اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
کشمیر کے دیرینہ تنازع پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ کشمیری عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ حقِ دفاع کے تحت بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے۔
پاک فوج نے بھارتی حملے کو پسپا کر کے دشمن کو وہ ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ہے جسے وہ یاد رکھے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت ایک ایسا اقدام تھا جس سے جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچ گئیں۔
عالمی سطح پر پاکستان کی بھرپور سفارتکاری اور امن کوششوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے شہباز شریف نے ایک اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے تنازعات کے خاتمے کے لیے تاریخی اور بے مثال اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔
وزیراعظم نے اس غیر معمولی سفارتی کامیابی اور کوششوں پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی فورم پر پاکستان کی زیرِ صدارت تنازعات کے پرامن حل کی قرارداد کا متفقہ طور پر منظور ہونا ایک زبردست سفارتی فتح ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اسلامی ممالک کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
علاقائی دفاع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دنیا پر واضح کیا کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا یہ مضبوط اتحاد محض خطے کے دفاع، استحکام اور قیامِ امن کے مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان بانیِ پاکستان قائد اعظم کے فرمان اور وژن کے عین مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی امن اور خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار اور مکمل تعاون جاری رکھے گا۔



