وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا۔
تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اڑھائی گھنٹے وزیراعلیٰ ہاؤس میں جاری رہا جس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چار اکتوبر سے پشاور سے نکلے گا۔
وزیر اطلاعات شفیع جان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لانگ مارچ پانچ اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایئرلائنز پر پابندی برقرار رہی تو خطے میں کوئی جہاز نہیں اڑسکے گا: ایران کی دھمکی
سہیل آفریدی کا کہناتھا کہ پولیٹکل کمیٹی میں تمام معاملات کی مشاورت کی گئی، کمیٹی متفق ہوئی ہے کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا۔
ہماری جدوجہد آئین کی بحالی کےلئے ہیں، یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ لڑتی رہے اور یہ جہاز خریدتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ کی سنوائی نہ ہو پرامن احتجاج کر سکتے ہیں، انہوں نے ڈان لیکس کروائے،عدلیہ پر حملے کروائے گئے ۔
مریم نواز نے کہا مجھے بھارت سے خطرہ نہیں باقی 3صوبوں سے خطرہ ہے، ان کا مقصد پاکستان کو تقسیم کرنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا بجلی تاروں کا جھنجھٹ ختم کرنے کیلئے موثر میکنزم بنانے کی ہدایت
ان کا ایک وفاقی وزیر ہے جو منتخب بھی نہیں ، انہوں نے نازیبا زبان استعمال کی ،کیا یہ زیب دیتاہے۔
ارکن چار اکتوبر کو نکلیں گے اور مرحلہ وار لانگ مارچ آگے بڑھتا ہوا صوابی پانچ اکتوبر کو پہنچے گا جہاں وہ بانی پی ٹی آئی کی سالگرہ کا کیک کاٹیں اور جلسہ بھی کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کے لیے اعلان کردہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ برقرار ہے اور اسے مؤخر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن رہنما کو پارٹی کے فیصلوں اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت معمول کا سیاسی عمل ہے۔




