کابل میں پاکستان مخالف ریلی کا بھانڈا پھوٹ گیا، افغان شہری نے حقیقت کھول دی

کابل میں ہونے والی ایک پاکستان مخالف ریلی کے حوالے سے افغان شہری کی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ویڈیو نے ایک نئی بحث چھڑ دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس احتجاجی مظاہرے میں لوگوں کو مبینہ طور پر پیسے دے کر لایا گیا تھا۔ تاہم، اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی اور ویڈیو میں موجود شخص کی شناخت اور بیان کی مکمل آزادانہ توثیق بھی سامنے نہیں آئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک افغان شہری نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام افغان شہریوں اور دہشت گرد عناصر کے مفادات بالکل مختلف ہیں۔ اس شخص نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے جو خطے میں بدامنی کا باعث بنتے ہیں۔

یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی اور حالیہ فضائی کارروائیوں کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل 21 ستمبر کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کا اعلان کیا تھا، جس میں پاکستانی حکام کے مطابق تین اہداف کو درست نشانہ بناتے ہوئے 28 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا، جن میں خودکش حملہ آوروں کا تربیتی مرکز بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی، ٹی ٹی پی کمانڈر عبدالولی داور کی ہلاکت کی اطلاعات

دوسری جانب، افغان حکام نے اس کارروائی میں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی تین شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد دونوں جانب سے جانی نقصان کے مختلف دعوے سامنے آئے۔ اس کے بعد 24 ستمبر کو پاکستان نے ایک اور کارروائی کی اطلاع دی جس کے تحت افغانستان میں 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ وہ مقامات تھے جو ڈرونز کو ذخیرہ کرنے اور پاکستان کی جانب بھیجنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

پاکستان نے ان کارروائیوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اہداف صرف ان فوجی تنصیبات تک محدود رکھے گئے جو پاکستان کے خلاف ڈرون حملوں سے منسلک تھیں۔ تازہ کارروائیوں کے تناظر میں افغان صوبہ خوست کے مقامی حکام نے بھی فضائی حملوں کی تصدیق کی، تاہم ان کے مطابق وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ افغان طالبان حکومت نے مجموعی طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے۔

پاکستان کا اصولی مؤقف یہ رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ افغان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی چلی آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آنے والی کابل کی اس وائرل ویڈیو کو تجزیہ کار مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، تاہم ریلی کے شرکا کو مبینہ طور پر رقم دے کر لانے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے اس بیان کو فی الحال اس شخص کی ذاتی رائے اور دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔