وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہاہے کہ کےپی میں گورنرراج نہیں عوامی راج کی ضرورت ہے،میں نے کہا عوامی راج لگا دیں، پی ٹی آئی والوں کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں، پی ٹی آئی والوں کو اسلام آبادنہیں آنے دیں گے،ہمارے پاس اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےعطاتارڑ کا کہناتھا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر جگہ کی تیاری کریں، ہماری پوری تیاری ہے،ان کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے، ان کے دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا تھا، اجازت نہیں دی جائے گی کہ کوئی بھی تخریب کاری کرے۔
یہ بھی پڑھیں:سوچ سمجھ کر آنا، کچھ لے کر نہیں دے کر ہی جائو گے، خواجہ آصف کی پی ٹی آئی کو وارننگ
ہم ان کو روکیں گے بھی اور گرفتاریاں بھی ہوں گی، یہ اچھی نیت سے نہیں آرہے،انارکی پھیلانا چاہتے ہیں، ہم ان کے راستے میں رکاوٹ بنیں گے، یہ شہدا کے خون سے غداری کرنا چاہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے،پی ٹی آئی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں پر دہشتگرد حملے ہوئے،اس کی وجہ یہ ہےپی ٹی آئی کا نظریہ کالعدم ٹی ٹی پی کے نظریہ کے قریب ہے، یہ چاہتے ہیں کنٹرول حاصل کر کے دہشتگردوں کو فری ماحول فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انسان کہلانے کے لائق نہیں، سیاسی بنیادوں پر ایک سکیورٹی فورس کھڑی کرنا چاہتے ہیں، چاہتے ہیں اس فورس میں بھرتی بھی خود کریں،آئی جی بھی خود لگائیں، یہ بھی تجویز ہےکہ ڈی ایس پی ڈائریکٹ بھرتی ہوں گے۔
قانونی طور پر یہ ممکن نہیں،بغیرقانونی اتھارٹی ایسا کرنے جا رہےہیں۔ ایسی فورس بناناچاہتےہیں جس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو بھرتی کیا جائے،چاہتے ہیں تمام کنٹرول ان کے پاس ہو،تاکہ کالعدم ٹی ٹی پی کو فری ہینڈ دیں۔
انہوں نے کہا کہ کاش یہ سیف سٹی بل لاتے،سی ٹی ڈی کےالگ یونٹ کاکہتے، 150ارب روپے انسداد دہشتگردی کی مد میں این ایف سی میں کےپی کو جاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں اسمگلنگ،غیرقانونی مائننگ ہو رہی ہے، خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔
میں 2دن کے پی میں تھا،ہم نے کہا عوامی راج لگائیں، میں نہیں سمجھتا کہ گورنرراج کاکوئی امکان ہے، پی ٹی آئی والے چاہیں گے ایساقدم اٹھایا جائے تاکہ وہ اس پر کھیل سکیں ۔
عطاتارڑ نے کہا کہ کے پی میں گورننس نام کی چیزمٹ چکی ہے، ریاست کی کوشش ہوتی ریاستی رٹ بحال رہے، جنید اکبر نے ایسا بیان دیا،اب اس کو کور کرنےکی کوشش کر رہے ہیں یہ اسلام آبادمیں اچھی بات کرتےہیں،جیسے عوام میں جاتے ہیں تو کسی بھی حد کو پار کرتے ہیں، ان میں بات کس سے کی جائے،فیصلہ کرنے والا کون ہے؟
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی لانگ مارچ، جڑواں شہروں میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ
ان کے مسائل کی موجودگی میں بات چیت ہوتی نظر نہیں آرہی، علیمہ خانم اور دیگر پر مقدمات قائم نہیں کئے گئے، یہ 16ایم پی او کے تحت احتیاطی نظربندی ہوتی ہے، جب بھی یہ باہر نکلےتخریب کاری کی،لوگوں کو تشدد پر اکسایا، ڈی سی لاہور کے پاس اطلاعات تھیں کہ یہ خرابی کریں گے۔




