حویلی کہوٹہ،محکمہ خوراک کی پسند ناپسند کی پالیسی، آٹا بحران شدت اختیار کر گیا

حویلی کہوٹہ میں محکمہ خوراک کی نااہلی اور پسند وپسند کی پالیسی کے باعث آٹے کا بحران بدستور جاری ہے، عوام تاحال مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں اورنئی حکومت بھی اپنے دعوے پورے نہ کر سکی ۔

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے راولاکوٹ میں دھرنے کی وجہ سے حویلی کہوٹہ میں تین ماہ سے حویلی میں آٹے کا شدید بحران جاری ہے، ارجہ فلور ملزسے متبادل کےطور پرآٹے کی ترسیل شروع کی گئی لیکن تاحال آٹا فرام نہیں کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آٹے کا کوئی بحران نہیں، خبریں بے بنیاد ہیں،محکمہ خوراک آزادکشمیر

ذرائع کے مطابقکہوٹہ میں تین ماہ سے عوام آٹے کیلئے ترس رہے ہیں۔ سرکاری آٹا غریب عوام کی پہنچ میں نہیں ہے، اگر آتا بھی ہے محکمہ خوارک کے ملازمین گاڑی سے اتار کر راستے میں من پسند لوگوں کو تقسیم کر دیتے ہیں یا پھر رات میں اندھیرے میں گاڑیاں لائی جاتی ہیں اور اپنے ووٹر سپورٹر میں ہی تقسیم کی جاتی ہیں۔

راولپنڈی والا آٹا غریب عوام خریدنے کی سقت نہیں رکھتے ۔ تاجران نے بھی اس مشکل وقت میں بہت منافع کما لیا ہے لیکن یاد رکھیں زیادہ کبھی نصیب نہیں ہوتا ۔ ان غریب اور مساکین کی بددعائیں آپ لوگوں کے حق میں تاقیامت جاری رہیں گی ۔

موجودہ حکومت کو چاہیے کے محکمہ خوارک حویلی کی قبلہ درست کیا جائے اور غریب عوام کو سہولت مہیا کی جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:آٹا اور چاول مزیدمہنگے ہوگئے،شہری مشکلات کا شکار

نئی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ حکومت تشکیل پانے کے ساتھ ہی آٹے کے پراپر ترسیل کے علاوہ دیگر اقدامات کیے جائیں گے لیکن یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔

عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حویلی میں اٹے کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔