مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل ) ترجمان محکمہ خوراک کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے کچھ علاقہ جات میں چند ایام سے سرکاری آٹا کی کمی کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر تواتر سے خبریں آ رہی ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
محکمہ خوراک واضح کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کے جملہ ڈپو ہا پر ایلوکیشن کے مطابق آٹا کی ترسیل ایسے ہی جاری ہے جیسی گزشتہ 11 ماہ سے جاری تھی ۔ البتہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلان ( عوام ایک ماہ کا غلہ ذخیرہ کریں ) کی آڑ میں چند علاقہ جات میں بعض لوگ نا جائز منافع خوری کی کوشش کر رہے ہیں
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور:9 جون کی احتجاجی کال، انٹر میڈیٹ امتحانات ملتوی، ہاسٹلز خالی کرنے کا حکم
تا ہم محکمہ کے اہلکاران اس کے تدارک کیلئے ہمہ وقت کام کر رہے ہیں جنہیں ہدایت دی گئی ہے کہ عوام الناس کو بمطابق ایلوکیشن آٹا کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
محکمہ کے حکام کی جانب سے فیلڈ اہلکار ان کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی علاقہ میں گاڑی روک کر زبر دستی آٹا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو فوراً انتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری یٰسین کی بے وفائی، ڈسٹرکٹ کونسلر راجہ مزمل خان پیپلز پارٹی چھوڑ گئے
اس سے قبل بعض رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ضلع حویلی کی تحصیل خورشید آباد میں آٹے کی قلت کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آٹے کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث عوام کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی عدم دستیابی اور محدود سپلائی کے باعث خصوصاً غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
کئی مقامات پر لوگ آٹے کے حصول کے لیے طویل انتظار پر مجبور ہیں جبکہ مقامی تاجروں نے بھی سپلائی میں تعطل کی نشاندہی کی ہے۔
عوام نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آٹے کی سپلائی بحال کی جائے اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنیوالے عناصر کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔



