پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے بااختیار سیاسی رہنماؤں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا پرزور مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
سینیٹ میں موجود اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں اطراف سے باقاعدہ سیاسی کمیٹیاں بیٹھ جائیں تو ملک کے تمام پیچیدہ معاملات کا بہترین حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت جب بھی اور جس وقت بھی بیٹھنا چاہے، ہماری طرف سے مذاکرات کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے کھلے ہیں۔
علامہ ناصر عباس کا اپنے اس بیان میں مزید یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو شدید بحران کی صورتحال کا سامنا ہے، اس لیے اس دلدل سے نکالنے کے لیے صرف اور صرف بامعنی مذاکرات ہی ہونے چاہئیں تاکہ کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے آ سکے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ایک سیاسی ٹیم تشکیل دیں جس میں بااختیار اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سیاسی لوگ شامل ہوں تاکہ بیٹھ کر ان تمام سنگین مسائل کا منصفانہ حل تلاش کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں لانگ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی کے ہنگامی اور سخت ترین انتظامات
مذاکرات کے لیے رابطے اور گرفتاریوں سے گریز کا مطالبہ:
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات سے لے کر اب تک وفاقی سطح پر تمام متعلقہ لوگوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان جاری رابطوں کے دوران اپنے گزشتہ تمام واقعات سے متعلق پارٹی کا واضح پیغام متعلقہ حکام تک پہنچا دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے تمام متعلقہ لوگوں سے یہ سخت مطالبہ بھی کیا کہ اس قسم کے غیر ضروری اقدامات سے فی الفور گریز کیا جائے کیونکہ اس طرح کی مزید گرفتاریاں ملکی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وہ انتہائی مناسب وقت آ چکا ہے کہ موجودہ کشیدہ اور بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید خراب ہونے سے ہر صورت روکا جائے۔
پرامن مؤقف اور احتجاج کرنے کی وجوہات:
چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے یہ مؤقف بھی سختی کے ساتھ واضح کیا کہ وہ اسلام آباد پر کسی بھی قسم کی کوئی چڑھائی کرنے کے ارادے سے ہرگز نہیں جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ، سینیٹ اور ہر مناسب فورم پر اپنی آواز کو بھرپور طریقے سے بلند کیا لیکن اس کے باوجود کوئی بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کے 24 تعلیمی ادارے کل سے بند رکھنے کا فیصلہ
انہوں نے ملک کے تمام نام نہاد سیاسی چیمپئنز سے یہ اہم سوال پوچھا کہ وہ خود ہی ہمیں اس بات کا جواب دیں اور بتائیں کہ ہمارے پاس پُرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے علاوہ اور دوسرا کون سا چارہ کار باقی بچتا ہے۔




