امریکا نے ایران کے ساتھ جاری 7ماہ کی طویل جنگ کے دوران متاثر ہونے والی خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے متبادل برآمدی راستے بنانے کے لیے 5 ارب ڈالر کا کثیر ملکی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے نئے فنڈ میں 5 ارب ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عمان، عراق اور اردن سے مجموعی طور پر مزید 5 ارب ڈالر فراہم کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ایئرلائنز کا آپریشن دو دن میں بند ہو جائیگا، امریکا،پروازیں جاری رہینگی، تہران
رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے کو پارٹنرشپ فار الائیڈ ٹرسٹ اینڈ کنسٹرکشن کا نام دیا گیا ہے اور امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اس فنڈ کو چلائے گی۔
امریکی حکام کے مطابق منصوبے پر بات چیت ابھی جاری ہے شرائط میں تبدیلی ممکن ہے اور فی الحال یہ بھی واضح نہیں کہ کون سے ممالک حتمی طور پر اس میں شامل ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے متعدد ریفائنریوں، آئل فیلڈز اور گیس برآمدی ٹرمینلز کو نشانہ بنایاجبکہ رواں ماہ سعودی عرب کی ایک بائی پاس پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے منتقل ہونے لگا اور ٹینکرز کے کرائے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کیساتھ ممکنہ معاہدہ ،گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کریگا، ڈنمارک
رپورٹ کے مطابق کچھ خلیجی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امن معاہدے سے قبل تعمیر نو کے لیے فنڈنگ شروع کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ ایران نئی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے۔ بعض علاقائی ماہرین نے بھی منصوبے سے شرکا کے درمیان انحصار اور دوطرفہ تعلقات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔




