سرمایہ کاروں کی جانب سے مہنگائی کے خدشات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود کی پالیسی کا جائزہ لیے جانے کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
قیمتوں میں کمی کی تفصیلات اور امریکی فیڈرل ریزرو کا فیصلہ:
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کو سونے کی قیمت میں 0.5 فیصد تک کمی ہوئی اور بلین کی قیمت 4,360 ڈالر فی اونس سے نیچے آگئی، جبکہ گزشتہ ہفتے سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سونے کی قیمت میں کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی فیڈرل ریزرو نے 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس میں شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا۔ یہ 2023 کے بعد امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرحِ سود میں پہلا اضافہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں فی تولہ سونا 6 ہزار 900 روپے مہنگا
فیڈرل ریزرو کے تمام پالیسی سازوں نے شرحِ سود میں اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ مرکزی بینک نے یہ اقدام مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر کیا، جو پانچ سال سے زائد عرصے سے فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے نیچے نہیں آئی۔
سرمایہ کاروں کی نظریں آئندہ بیانات اور معاشی عوامل پر:
اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے کئی پالیسی ساز عوامی سطح پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے، جس پر سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز ہیں۔ ان بیانات سے امریکی شرحِ سود کے مستقبل کے راستے سے متعلق مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔ شرحِ سود، مہنگائی اور امریکی مانیٹری پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں سونے کی قیمت پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہیں، جبکہ سرمایہ کار ان عوامل کے ساتھ عالمی معاشی صورتحال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔




