شہباز شریف

کفایت شعاری مہم :غیر ملکی دوروں ،نئی گاڑیوں کی خریداری پرپابندی عائد

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت مارکیٹیں 9 بجے اور شادی ہال 10 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

شادی کی تقاریب میں صرف ون ڈش ہوگی، فارمیسی، اسپتال، بیکری، ملک شاپ، تندور و دیگر اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بروقت ،موثر کوریج،کشمیر ڈیجیٹل آزادکشمیر بھر میں پہلے نمبر پر آگیا

آئی ٹی سے متعلق خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوگی۔تین ماہ کیلئے بیرون ملک تمام سرکاری دوروں اور سفر پر مکمل پابندی ہوگی۔

یہ اقدام بیرون ملک پاکستانی مشنز اور ان مشنز میں تعینات تمام پیشہ ورانہ گروپس یا سروسز سے تعلق رکھنے والے افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوگا ۔

وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری کے اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق احکامات جاری کیے جس کا وفاقی کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

کمیٹی کی سفارشات پر غور کے بعد کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات پر فوری طور پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

احکامات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کیلئے تین ماہ کے عرصے تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔

مالی سال 2026-27ء کے پورے عرصے کے لیے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کی جائے گی جس کی کٹوتی ماہانہ بنیادوں پر کی جائے گی تاہم ترقیاتی منصوبوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

تاہم ان کے رہائش کے کرایوں، تعلیمی فیس اور طبی سہولیات سے متعلق واجبات پورے کیے جائیں گے۔تمام اقسام کی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے، تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔

حتیٰ کہ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی کے دائرے میں شامل ہوں گے، تاہم اسکالرشپس کے تحت پیش کیے جانے والے دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بالا کوٹ: آسمانی بجلی گرنے سے 2 مکان تباہ، 2بہنیں جاں بحق،تین افراد زخمی

کفایتی اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستیں کیس ٹو کیس بنیاد پر زیرغور لائی جائیں گی، صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی ایسے ہی کفایتی اقدامات اپنانے پر غور کرسکتی ہیں۔

فیصلوں کے تحت سرکاری اجلاسوں کیلئے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے غیرملکی وفود کے سوا سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر مکمل پابندی ہوگی۔

حکومت کے فنڈز سے ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی ہوگی جب کہ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے،

شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے، ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ ہوں گے۔

فارمیسی، اسپتال، کلینک، میڈیکل لیبارٹری، پٹرول پمپس اور دیگر ضروری شعبے اوقاتِ کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ بیکری، تندور، دودھ و ڈیری شاپ، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم پر بھی اوقات کار کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔