پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو دیئے گئے اہم انٹریو میں خطے کی صورتحال پر اپنی پوزیشن واضح کردی ہے اور ساتھ ہی مکہ دفاعی معاہدہ پر بھی اظہار خیال ہے،ترجمان پاک فوج نے اس موقع پر بھارت اور افغانستان کو بھی دوٹوک پیغام دیا ہے جبکہ کشمیریوں کی مکمل حمایت کااعادہ کیا ہے۔
پاکستان ، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدہ کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی ظاہر کی جائیں گی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ کئی دہائیوں پرانے تعلقات کو اجتماعی دفاع اور تینوں ممالک کے دفاع کے شعبے میں باضابطہ شکل دیتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ مکمل طور پر دفاعی ہے۔ اس میں کوئی جارحانہ عنصر یا علاقائی توسیع کے عزائم نہیں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب، اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک تعلقات پر مبنی ہیں۔یہ اتحاد ایک ایسے حساس ماحول میں ان دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کا عمل ہے۔
تینوں ممالک کی جانب سے جاری معاہدے کے سادہ الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد اجتماعی دفاع پر ہے۔ اس میں کوئی جارحانہ، مداخلت پسند یا جارحیت پر مبنی عنصر نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کیا کرے گا؟
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہا کہ دفاعی وعدوں کو عملی شکل دینے کا طریقۂ کار عام طور پر عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ دنیا میں کئی ایسے دفاعی نوعیت کے معاہدے موجود ہیں لیکن کوئی ملک اپنی فوجی کارروائیوں کی عملی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تینوں ممالک کے درمیان طے ہونا ہے کہ اسے کس طرح عملی شکل دی جائے گی اور اسے کیسے نافذ کیا جائے گا۔
کیا یہ مسلم دنیا کے لئے مشترکہ سکیورٹی نظام بن سکتا ہے؟
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بدقسمتی سےاسے مسلم امن کے نظام کے طور پر بیان کرنا درست نہیں کیونکہ اس معاہدے میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ کوئی مسلم اتحاد ہے۔یہ ایک علاقائی اتحاد ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک کے لیے نہیں بنایا گیا۔اسے کب اور کس طرح وسعت دینی ہے یہ تینوں ممالک کی قیادت کو طے کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ البتہ یہ معاہدہ اور یہ اتحاد مستقبل میں ایسے نئے شراکت داروں کو شامل کر سکتا ہے جو علاقائی امن، استحکام اور سکیورٹی پر یقین رکھتے ہوں اور عدم جارحیت، عدم مداخلت اور اجتماعی دفاع کے مشترکہ وژن کے حامل ہوں۔
امریکا ایران میں ثالثی
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کررہے ہیں کیونکہ ہم امن پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کا بڑا حامی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی ایک منفرد پوزیشن بھی ہےکیونکہ ہماری پالیسی مختلف ممالک کے ساتھ کثیر جہتی تعلقات اور روابط رکھنے پر مبنی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان ایک غیر جانب دار ثالث اور امن کے لیے ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے تنازع میں ثالثی کرنا، جہاں فریقین کے درمیان کشیدگی، عدم اعتماد اور بہت سی پیچیدگیاں موجود ہوں، آسان نہیں ہوتا۔ اچھی ثالثی کی بنیادی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ ثالث غیر جانب دار اور غیر متعصب رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس لیے ثالث کی حیثیت سے ہمارا کام ان واقعات پر تبصرہ کرنا نہیں جو ہو رہے ہیں یا مستقبل میں ہونے والے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ یہی موقف برقرار رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت تمام فریقوں سے رابطے کر رہی ہے تاکہ بہتر سوچ غالب آئے اور فوجی حل کے بجائے اس پیچیدہ صورتحال کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے میں جو کردار ادا کر سکتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط مضبوط اور مستحکم تعلقات ہیں۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ، ہمسایہ اور اسٹریٹجک تعلقات بھی ہیں۔
پاکستان اپنی سکیورٹی پر پراعتماد
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سب سے پہلے تو پاکستان اپنی سرحدوں، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے حوالے سے اپنی سکیورٹی کے بارے میں پُراعتماد اور خود انحصار ہے۔
یقیناً کسی بھی تنازع کے پھیلنے کے خدشات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ یہ صرف پاکستان کی تشویش نہیں بلکہ پورا خطہ اور دنیا اس جاری تنازع کے اثرات محسوس کر رہی ہے۔
لوگوں کے حوالے سے خدشات بہرحال موجود رہیں گے، لیکن پاکستان جیسے خود انحصار ملک کو یقین ہے کہ پاکستان کے خلاف پیدا ہونے والے کسی بھی نقصان دہ منصوبے سے نمٹا جا سکتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ایران کی قیمت پر ہیں نہ ہی چین کی قیمت پر
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہر ملک کے ساتھ تعلقات آزاد اور الگ نوعیت کے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ایران کی قیمت پر نہیں ہیں اور نہ ہی چین کی قیمت پر یا کسی اور ملک کی قیمت پر ہیں۔اسی طرح کسی دوسرے ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی کسی تیسرے ملک کی قیمت پر نہیں ہیں۔
دنیا میں ہماری متعدد ممالک، مختلف طاقتوں اور مختلف گروپس کے ساتھ آزادانہ تعلقات ہیں، اور یہ تمام تعلقات باہمی مفاد اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہیں۔
ہر ملک کی اپنی قومی ترجیحات اور مقاصد ہوتے ہیں۔ پاکستان کی بھی اپنی قومی ترجیحات اور قومی مقاصد ہیں، جن کا مقصد پاکستانی عوام کی خوشحالی اور استحکام ہے۔
بھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو نتائج سنگین ہوں گے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے بھارت کو ایک اہم سبق دیا اور وہ یہ تھا کہ دو جوہری ممالک، خصوصاً دو ہمسایہ جوہری ممالک کے درمیان فوجی تنازع ناقابلِ قبول ہے۔ میں اسے ایک طرح کی حماقت کہوں گا۔
یہ سبق ہم نے بھارت کو ہر شعبے میں دیا، چاہے وہ فضائی، زمینی، سائبر یا بحری شعبہ ہو، یا اطلاعاتی اور سفارتی میدان۔ہم بھارتیوں کو یہ سبق یاد دلاتے رہیں گے
ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت میں ایک خطرناک سوچ موجود ہے اور بھارتی فوج اور معاشرے میں سیاست کا اثر بڑھ رہا ہے۔ مختلف زاویوں سے دیکھا جائے تو وہاں فوجی معاملات اور معاشرے کی سیاست کا باہمی اثر بڑھتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات وہ اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی معاملات کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھارت کو مسلسل پیغام دیا جاتا ہے کہ پاکستان برابری کی بنیاد پر امن پر یقین رکھتا ہے اور ایک ذمہ دار، منطقی اور حقیقت پسند ریاست ہے جو علاقائی امن چاہتی ہے۔
تاہم اگر بھارت ’’اکھنڈ بھارت‘‘ یا علاقائی بالادستی جیسے تصورات کی بنیاد پر فوجی جارحیت اختیار کرتا ہے تو اس کے نتائج اس کی توقعات سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں اور پاکستان اپنی سلامتی اور پاکستانی عوام کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی دنیا اور بھارت کے سامنے یہ دکھایا ہے کہ پاکستان کے پاس صلاحیت، عزم اور عوامی حمایت موجود ہےاور ہم کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی رابطہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے فوجی سطح پر ہاٹ لائن موجود ہے اور یہ رابطے کا ایک ایسا نظام ہے جو ماضی کے بحرانوں کے دوران بھی موثر رہا ہے۔زیادہ رابطہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ پاکستان رابطے اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے، رابطہ رکھنا چاہیے لیکن یہ رابطہ برابری کی بنیاد پر، ایک دوسرے کی شناخت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی قابلِ قبول نہیں اور ممالک کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایک دوسرے سے معاملات طے کرنے چاہئیں۔
بھارت سے مذاکرات کے بارے میں پاک فوج کا موقف
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کیساتھ مذاکرات کا فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ہم اس حوالے سے پُراعتماد ہیں، لیکن مذاکرات برابری کی بنیاد پر، باہمی احترام کے ساتھ اور مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ہونے چاہئیں۔
مذاکرات یا رابطے کو پاکستان میں مبینہ بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی یا کسی جارحیت کے لیے پردہ نہیں بننا چاہیے۔ مذاکرات احترام، برابری اور مسائل کے حقیقی حل کے لیے ہونے چاہئیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہماری سوچ بالکل واضح ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ دو جوہری ممالک کے درمیان فوجی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا ہونا انتہائی خطرناک ہوگا، اور اگر ایسا ہوا تو اس کے خطے اور پوری دنیا کے لیے انتہائی سنگین نتائج ہوں گے۔
پاکستانی فوجی قیادت کے لیے پاکستان کی جوہری حد بالکل واضح ہے۔کشیدگی کو قابو میں رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں دو ہمسایہ ممالک جوہری طاقت رکھتے ہوں اور موجودہ حالات میں بھارت کی پالیسی میں ایک خاص نوعیت کی سوچ بھی نظر آ رہی ہو۔
دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ، ضرورت پڑنے پر دشمن کو موثر جواب دینگے
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ ہم بھارتی فوج کی صلاحیتوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت اپنی فوجی طاقت، ہتھیاروں اور دفاعی صلاحیتوں میں بہت زیادہ پیسہ اور وسائل خرچ کرنا چاہتا ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کسی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے۔ ہماری دفاعی صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں، بالکل بھی نہیں۔
ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، تاکہ اپنا دفاع کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر دشمن کو مؤثر جواب دے سکیں۔
افغان سرزمین سے دہشتگردی کے دفاع کا حق حاصل ہے
ترجمان پاک فوج نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں کوئی مداخلت اور کوئی دہشت گردی نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ افغان حکومت یا وہاں کا موجودہ نظام جس علاقے کو کنٹرول کرتا ہے، وہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت، مسلح کرنے اور پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے مسئلہ ہے۔
ہم یہ بات محض الزام لگانے کے لیے نہیں کہہ رہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی مختلف دہشت گرد تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتی ہیں۔
ان میں القاعدہ، داعش خراسان (ISKP)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA)، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU) اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان دنیا کا دہشت گردی کا مرکز نہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دفاع کا حق اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 میں تسلیم کیا گیا ہے۔ دنیا کی ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت، حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر پاکستانی شہری کی جان، عزت اور مال کا دفاع کرے۔
انہوں نےکہا کہ اس مقصد کے لیے جو کچھ ضروری ہوگا، وہ کیا جائے گا اور کیا جا رہا ہے، چاہے اس کی منصوبہ بندی کوئی بھی کر رہا ہو کہاں سے کی جا رہی ہو اور اسے کس طریقے سے انجام دیا جا رہا ہو۔
پاکستان گزشتہ تقریباً دس سال سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور ہم اس راستے پر قائم ہیں۔
رواں سال 42 ہزار انسدادِ دہشت گردی آپریشنز
ترجمان پاک فوج کے مطابق رواں سال اب تک 42 ہزار سے زیادہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔
ہم افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق، اس سال 2,100 سے زیادہ دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ اس لڑائی میں پاکستانی شہریوں، فوجیوں، انٹیلی جنس اہلکاروں اور پولیس اہلکاروں نے بھی جانیں قربان کی ہیں۔
اس لیے ہم یہ کارروائی جاری رکھیں گے اور دہشت گردی کے معاملے پر کسی سمجھوتے یا ڈیل کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ترجمان پاک فوج نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوج کے نزدیک موجودہ انسدادِ دہشت گردی کی صورتحال منفرد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف میدانِ جنگ کی جنگ نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ بھی ہے، اور اس میں اسٹریٹجک وضاحت ضروری ہے۔
TTP یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مذہبی جنگ لڑ رہی ہے لیکن پہلی مرتبہ پاکستان کے عوام اور ریاست اس بات پر واضح ہیں کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شدت پسند عناصر افغان طالبان کی حمایت اور مدد حاصل کر رہے ہیں اور اسلام کی ایک بگڑی ہوئی تشریح کو استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان کے عوام، جو پہلے ان کے بیانیے سے متاثر ہو سکتے تھے، اب سمجھ رہے ہیں کہ اس دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
بلوچستان میں کوئی شورش نہیں پراکسیوں کے ذریعے سے دہشتگردی کی جا رہی ہے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان شورش نہیں ہے، یہ دہشت گردی ہے۔ ہم اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کہ اسے کسی قسم کی شورش کہا جائے۔حکمتِ عملی اور میدانِ عمل، دونوں سطحوں پر ہمارے پاس واضح پالیسی اور تسلسل موجود ہے۔
جن 42 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا میں نے ذکر کیا، ان میں سے تقریباً 32 ہزار بلوچستان میں کیے گئے۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں جو خود کو بلوچستان سے منسلک کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک سطح پر بھی ہماری پالیسی واضح ہے۔ حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان، فوج اور سب سے اہم بلوچستان کے عوام اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس کے لیے ایک منظم منصوبہ موجود ہے، جس میں عوامی رابطے، پائیدار ترقی کے منصوبے، گاؤں اور شہروں کی سطح پر اقدامات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔آخرکار اس کا مقصد اچھی حکمرانی ہے۔
بلوچستان میں کوئی شورش نہیں بلکہ پراکسیوں کے ذریعے سے دہشتگردی کی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے سردار یا اشرافیہ ہمارے لئے اہمیت نہیں رکھتے، ہمارے لئے اہم بلوچستان کے عام نوجوان ہیں اور پاکستان کی ریاست پوری کوشش کر رہی ہے کہ بہتر گوورننس کے زریعے ان نوجوانوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کئے جائیں، جن کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے اور اسکی کوشش جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں آ کر پاکستان کے خلاف لڑ سکتے ہیں، وہ جہاں بھی ہوں، ہم ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔بلوچستان کے معاملے پر پاکستان میں مکمل وضاحت موجود ہے۔ ہم اسی راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں اور اسے جاری رکھیں گے۔




