کڑان گوجری ثقافت میں لسی سے بنائی جانے والی وہ سوکھا دودھ جو وٹامنز اور و پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے ۔
ڈھوکوں میں دودھ وافر ہوتا ہے ۔انسانی استعمال کے بعد جو دُودھ بچ جاتا ہےاسے دہی اور دہی سے لسی میں تبدیل کرکے پھر اسے کڑان میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔
یہ دیسی گھی سبزی سالن کو تڑکا لگانے کے ساتھ ساتھ بکروال اپنے بال بچوں کو بھی کھلاتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر کی روایتی پہچان؛ کشمیری کلچہ اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور صدیوں پرانی تاریخ کے ساتھ آج بھی مقبول
لسی منوں سے حساب سے بنتی ہے مگر پینے والا کوئی نہیں ہوتا اب اس لسی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے محفوظ کرلیا جاتا ہے ۔
اس کڑان کو ایک کپڑے میں ڈال کر اوپر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ لسی کے اندر سے پانی ختم ہوجائے
اس کے بعد اس بچے ہوئے مواد کو جو کہ وٹامنز اور پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے سکانے کیلئے صاف چادر میں دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے ۔
جس کے بعد مزیدار کھٹا کھٹا کڑان تیار ہو جاتا ہے، سردیوں میں یہ کڑان دُودھ ڈال کر پکایا جاتاہے جس سے اس کی کھٹاس بھی کم ہو جاتی ہے اور مزیدار بھی ہو جاتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: سی ایم ایچ فلائی اوور پروجیکٹ کی تاخیر پر برہمی، ٹھیکیدار کو 45 دن کی ڈیڈ لائن جاری
آج کے بزرگ بچپن میں گھر کا بنا کڑان کھایا کرتے تھے جو انسانی جسم میں انرجی پیدا کرتا ہے ۔کیا آپ کو بھی کبھی پروٹین سے بھرپور یہ غذا کھانے کا اتفاق ہوا ؟
شوگر کے مریضوں کیلئے کڑان ایک قدرتی غذا کے ساتھ ساتھ علاج کا کام بھی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو بکروال طبقے میں شوگر کے مریض کم ہی نظر آئیں گے ۔
کیوں کہ ان کی غذا پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے ۔ جس میں دودھ گوشت اور اس سے بنی اشیاء شامل ہیں۔




