اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی سکیورٹی کیلئے صوبوں سے مدد مانگ لی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے کابینہ سیکرٹریٹ نے پنجاب،سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو خط لکھتے ہوئے تینوں صوبوں سے مجموعی طور پر ساڑھے 23 ہزار پولیس اہلکار طلب کرلیے۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا آئے روز احتجاج مسترد، شہریوں کاحصہ نہ بننے کا اعلان
کابینہ ڈویژن نےصوبوں سے پولیس اہلکاروں کی دستیابی اور تعیناتی کیلئےنوٹی فکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب سے 15 ہزار ، سندھ سے 8 ہزار، بلوچستان سے 500 پولیس اہلکار بھجوائے جائیں۔تینوں صوبے پولیس اہلکاروں کو 20 ستمبر تک اسلام آباد میں تعینات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا مارچ نہیں ہو گا،شیر افضل مروت نے بڑا دعویٰ کردیا
اضافی نفری کی تعیناتی کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی انتظامات کو موثر بنانا ہے۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف نے رواں ماہ ہی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچز کا اعلان کیا جس کیلئے حکومت نےحفاظتی انتظامات شروع کردیئے ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت سے حکومت کے مذاکرات بھی جاری ہیں جواحتجاج موخر ہو سکتا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے بھی حکومت بھرپور حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی اہم شاہراہوں اور حساس مقامات کی سکیورٹی کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مختلف اہم راستوں کو بند کرنے کے لیے کنٹینرز اسلام آباد پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: 27ستمبر کو لانگ مارچ کی کال،پی ٹی آئی اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب
حکام کے مطابق اضافی پولیس نفری کی تعیناتی اور دیگر حفاظتی اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنا اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔




