آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں اور احتجاجی کالز نے جہاں سیاسی منظرنامے کو بری طرح متاثر کیا، وہیں عام زندگی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی۔ مسلسل دھرنوں اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کاروبار، آمدورفت اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی، جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی گہرے مسائل سے دوچار ہوئے۔ وادی لیپا جیسے دور افتادہ علاقے میں ان حالات کے اثرات مزید شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے، جہاں پہلے ہی سفری مشکلات اور محدود سہولیات عوام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔
وادی لیپا کے مقامی صحافیوں کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو میں یہ بات سامنے آئی کہ سیاحت، جو کہ وادی لیپا کی ایک بڑی انڈسٹری ہے اور اس بے روزگاری کے دور میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی ہے، کو کروڑوں روپے بلکہ اس سے بھی زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ عام معمولاتِ زندگی بھی اس کی زد میں آئے اور عام آدمی تک اس کے اثرات پہنچے۔ صورتحال یہ رہی کہ مارکیٹوں میں اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہو گئی اور لوگ آٹے کی دستیابی کے لیے در بدر پھرنے پر مجبور ہوئے، جبکہ سفری مشکلات کے ساتھ ساتھ شادی بیاہ اور دیگر ذاتی تقریبات میں بھی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی دھرنا ختم ،نئی حکومت کو وقت دے،جلد ترقیاتی ایجنڈا دیں گے،افتخار گیلانی
تعلیم، صحت کے شعبے اور انٹرنیٹ کی بندش کے اثرات:
ان دھرنوں اور لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کی تعلیم اور صحت کے شعبے بھی شدید متاثر ہوئے۔ انٹرنیٹ کی طویل بندش اور تعلیمی ادارے بند رہنے کے باعث بچوں کی آن لائن ایجوکیشن اور پڑھائی کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا، امتحان نہ ہونے کے باعث بچے گھروں میں بیٹھے رہے اور کچھ طلبا کو امتحان کے بغیر ہی پروموٹ کر دیا گیا۔ فری لانسنگ سے وابستہ نوجوانوں کو بھی بیرونی ممالک کے ساتھ رابطہ کٹنے کی وجہ سے بہت زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
اس بحران کے دوران انٹرنیٹ کی مکمل بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ معلومات کا دائرہ محدود ہونے کی وجہ سے معاشرے میں افواہوں اور پروپیگنڈوں کا بازار گرم ہو گیا۔ رابطہ کے ذرائع نہ ہونے کے باعث لوگ ایک دوسرے سے سنی سنائی اور خوفناک قسم کی باتوں پر یقین کرنے پر مجبور ہو گئے، یہاں تک کہ لوگ ڈرنے لگے کہ معلوم نہیں کیا قیامت آ گئی ہے۔ تاہم، جب طویل تعطل کے بعد انٹرنیٹ بحال ہوا تو بہت سی افواہوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی اور لوگوں کو اندازہ ہوا کہ اصل حقائق کیا تھے اور پروپیگنڈا کیا تھا۔
بھارتی پروپیگنڈا اور پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی:
انڈیا کا میڈیا اس دوران آزاد کشمیر کے حوالے سے یہ پروپیگنڈا کرتا رہا کہ یہاں کے لوگ پاکستان سے تنگ آ چکے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ اس پروپیگنڈا پر بات کرتے ہوئے مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں سے لے کر آج تک بھارتی میڈیا جھوٹ پھیلانے اور پروپیگنڈا کرنے میں ہمیشہ آگے رہا ہے۔ وادی لیپا اور آزاد کشمیر کے غیور عوام بھارت کے ان تمام پروپیگنڈوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: شر پسند کالعدم ایکشن کمیٹی کی بزدلانہ کارروائی میں زخمی رینجرز اہلکار شہید
انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 1947 سے لے کر آج تک آزاد کشمیر پر پاکستان کا دستِ شفقت رہا ہے اور پاکستان سے محبت یہاں کے لوگوں کے خون کا حصہ اور ایمان کا رشتہ ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے رشتے میں جڑے ہونے کی وجہ سے کوئی بھی طاقت اس دلی اور والہانہ محبت کو کمزور نہیں کر سکتی۔ پاکستان ہی وہ واحد اور مخلص سہارا اور امید کی کرن ہے جو نہ صرف مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانے بلکہ آزاد کشمیر کی معیشت کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔




