شر پسند کالعدم ایکشن کمیٹی کی بزدلانہ کارروائی میں زخمی رینجرز اہلکار شہید

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) ترجمان پولیس آزاد جموں و کشمیر نے اپنے بیان میں کہا کہ آزادکشمیر میں پر امن ماحول کو خراب کرنے اور ریاست میں خوف و ہراس پھیلانا کا لعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسندوں کا شیوہ بن چکا ہے۔

ترجمان کے مطابق مختلف مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنانا اور اندھا دھند و بے دریغ فائرنگ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کوئی پر امن دھر نا نہیں بلکہ منظم، تربیت یافتہ اورمسلح بلوائی ہیں جن کا مقصد ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا اور امن وامان کو سبوتاژ کرنا ہے۔

ترجمان کے مطابق کوٹلی میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شر پسند فسادی جتھے کے سنائپرز نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔فائرنگ سے قانون نافذ کرنیوالے اہلکار سپاہی آصف حسین شدید زخمی ہو گئے تھے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:‘ڈریسنگ روم لیکس انکوائری: امام الحق ،محمد رضوان کے موبائل این سی سی آئی اے کے سپرد

زخمی اہلکار کو فوری طور پر طبی امدادکیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا ، تاہم شدید زخمی ہونے کے باعث وہ دوران علاج جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش کر گئے ۔

واقعہ کے فوری بعد قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے علاقے میں بزدلانہ حملے میں ملوث شر پسند عناصر کی تلاش اور گرفتاری کیلئے کارروائی شروع کر دی۔

قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملے، فائرنگ اور ریاستی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی و تشدد کا نشانہ بنانا سی بھی صورت میں احتجاج ، اختلاف رائے یا سیاسی سرگرمی کے زمرے میں نہیں آتا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کھلی کچہری: محتسب آزادکشمیر کا شکایات کنندگان کے مسائل حل کرنے کا حکم

ترجمان پولیس آزادکشمیر کے مطابققانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملے کھلی قانون شکنی ، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور امن دامان تباہ کرنے کی منظم اور پر تشدد کوشش ہے۔

ایسے مسلح عناصر جو ہتھیار اٹھا کر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کی جانوں کو نشانہ بنائیں ، وہ کسی رعایت یا ہمدردی کے مستحق نہیں۔

ریاستی انتظامیہ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ریاست کی بالادستی ، امن عامہ اور شہریوں کے تحفظ یقینی بنایا جائےگا ۔

ایسے تمام دہشتگردانہ اور پر تشدد عناصر کیخلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق
فسادی جتھے کا سیکیورٹی اہلکاروں کیخلاف جدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشتگردی ہے

سکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیاں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ ریاستی رٹ کا ہر حال میں قیام اور تحفظ ناگزیر ہے

ماہرین کے مطابق ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مسلح جتھوں کیخلاف فوری، سخت اور بلا امتیاز قانونی کاروائی وقت کی اہم ضرورت ہے