جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں حکومت کو 6 نکاتی معاشی خاکہ پیش کر دیا ہے۔ تجاویز میں مقامی تیل کی قیمتوں، ریفائنری مارجنز، شرح سود، آئی پی پیز معاہدوں، سبسڈی اور ایف بی آر کے نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن نوید علی بیگ نے تجاویز کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات پر عمل درآمد سے نہ صرف کھربوں روپے کی بچت ہوگی بلکہ قومی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق ان اصلاحات کے ذریعے عوام پر پیٹرولیم لیوی کا بوجھ ڈالنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کیے گئے معاشی خاکے میں مقامی تیل کی قیمتوں کے حقیقت پسندانہ تعین، ریفائنری مارجنز کے خاتمے، حکومتی قرضوں کے اخراجات اور شرح سود میں کمی، باقی ماندہ آئی پی پیز کے ساتھ ازسرنو مذاکرات، غیر ضروری سبسڈی کے خاتمے اور ایف بی آر میں اصلاحات کو شامل کیا گیا ہے۔
مقامی تیل کی قیمتوں کا حقیقت پسندانہ تعین
نوید علی بیگ کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً 16 ارب لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرتا ہے، جس میں سے 4 ارب لیٹر مقامی سطح پر پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی تیل کی قیمت عالمی منڈی کے 100 ڈالر فی بیرل کے حساب سے طے کرنے کے بجائے مقامی پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کی جائے۔ ان کے مطابق مقامی تیل کی قیمتوں کو پیداواری لاگت سے منسلک کرنے کی صورت میں ملکی خزانے کو 120 ارب روپے کی خطیر بچت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی،جماعت اسلامی نے6 تجاویز پیش کر دیں،جمعرات کو دوبارہ مذاکرات
ریفائنری مارجنز کا خاتمہ
جماعت اسلامی کی جانب سے دوسری تجویز درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن اور خام تیل سے مقامی سطح پر تیار ہونے والے ایندھن کے درمیان موجود تقریباً 21 روپے کے فرق کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔ تجویز کے مطابق اس مارجن کو ختم کر کے فوری طور پر 185 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے کسی طویل انتظامی عمل کی بھی ضرورت نہیں۔
قرضوں کے اخراجات اور شرح سود میں کمی
حکومتی قرضوں کے اخراجات کے حوالے سے شرح سود میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی نے شرح سود موجودہ 11.5 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ نوید علی بیگ کے مطابق حکومت اس وقت سود کی مد میں 8 کھرب روپے ادا کر رہی ہے، جس کا بڑا حصہ تجارتی بینکوں کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق شرح سود میں اس معمولی کمی سے بھی سالانہ 1 کھرب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔
آئی پی پیز معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات
جماعت اسلامی نے اپنے حالیہ مطالبات کو دہراتے ہوئے باقی ماندہ آئی پی پیز کے ساتھ ازسرنو مذاکرات پر زور دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق 15 سے 20 کمپنیوں کے ساتھ نظرثانی کے نتیجے میں بجلی 10 سے 15 فیصد سستی ہوئی ہے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ اگر یہی عمل باقی ماندہ کمپنیوں کے ساتھ بھی دہرایا جائے تو کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں مزید 400 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
غیر ضروری سبسڈی کا خاتمہ
جماعت اسلامی کی چھ نکاتی تجاویز میں تمام شعبوں میں دی جانے والی غیر ضروری حکومتی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے 1.1 ٹریلین روپے کی بچت ممکن ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ متن کے مطابق عالمی بینک بھی کئی بار ایسے شعبوں کی نشاندہی کر چکا ہے جہاں ان سبسڈیز کا کوئی معاشی جواز نہیں بنتا۔
ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکس خلا کا خاتمہ
چھٹی اور اہم ترین تجویز ایف بی آر کی کارکردگی اور ٹیکس چوری کے حوالے سے ہے۔ نوید علی بیگ کے مطابق ٹیکس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے کی براہ راست کٹوتیوں اور درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی کی صورت میں خود بخود وصول ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایف بی آر اپنی روایتی ناکامی سے نکل کر کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے تو ملکی آمدنی میں 3.4 ٹریلین روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی اور حکومتی مذاکرات
پاکستان میں پیٹرولیم لیوی ایک عرصے سے عوام اور حکومت کے درمیان شدید تناؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط کے دباؤ میں حکومت مسلسل لیوی میں اضافہ کر رہی ہے، جس نے ہوشربا مہنگائی کو جنم دیا ہے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی نے حالیہ دنوں میں ملک گیر احتجاج اور دھرنے دیے، جس کے بعد حکومت مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی گئی یہ 6 تجاویز اسی مذاکراتی عمل کا حصہ ہیں، تاکہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے متبادل اور حقیقت پسندانہ ذرائع تلاش کیے جا سکیں۔
معاشی تجزیہ کار کا زاویہ نگاہ
ایک معاشی تجزیہ کار کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کی یہ تجاویز محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک ٹھوس اور قابلِ عمل معاشی بلیو پرنٹ پیش کرتی ہیں۔ خاص طور پر مقامی تیل کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی مصنوعی برابری سے الگ کرنا اور آئی پی پیز کے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹس کا دیرینہ تنازع حل کرنا، ملکی معیشت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ان تجاویز، بالخصوص ایف بی آر کی خامیوں کو دور کرنے اور طاقتور غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے جس بے پناہ سیاسی عزم کی ضرورت ہے، وہ موجودہ مصلحت پسند حکومتی ڈھانچے میں ایک کڑا امتحان دکھائی دیتا ہے۔
اگر حکومت دباؤ سے آزاد ہو کر ان میں سے نصف تجاویز پر بھی دیانتداری سے عمل کر لے تو پیٹرولیم لیوی جیسے جابرانہ ٹیکسز کی قطعی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔




