لندن (کشمیر ڈیجیٹل) کے شہر پورٹسماؤتھ کے ایک ہوٹل میں پیش آیا، جہاں مظاہرین نے غلط فہمی میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو پناہ گزین (تارکینِ وطن) سمجھ کر ہوٹل میں پہنچ گئے اور کمروں کے دروازے کھٹکھٹائے۔
یہ افسوسناک واقعہ 8 ستمبر 2026 کی شام پورٹسماؤتھ کے میریٹ ہوٹل کے باہر 30 سے 40 پناہ گزین مخالف مظاہرین جمع ہوگئے ،شدید نعرے بازی، پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ہاکی کے عظیم کھلاڑی، سابق کپتان اور اولمپین خالد محمود انتقال کر گئے
سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی افواہ پھیلی تھی کہ ایک بس کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کو اس ہوٹل لایا گیا ہے جبکہ حقیقت میں وہ پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم تھی جو انگلینڈ کے دورے پر وہاں ٹھہری ہوئی تھی۔
مقامی کونسلر جارج میڈوک نے ہوٹل پہنچ کر ٹیم کے کوچ سے ملاقات کی اور شواہد دیکھنے کے بعد باہر جمع مظاہرین کو بتایا کہ آپ لوگ غلط فہمی کا شکار ہوئے یہ پناہ گزین نہیں بلکہ کرکٹ ٹیم ہے۔
مقامی کونسلر جارج میڈوک کی وضاحت کے بعد مظاہرین چند منٹوں میں وہاں سے منتشر ہو گئے۔ افسوسناک واقعے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پی سی بی سے رابطہ کر کے کھلاڑیوں کی خیریت دریافت کی ۔
دورے کے بقیہ میچوں کیلئے مزید سکیورٹی انتظامات کا ازسرِِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:برمنگھم ٹیسٹ، انگلینڈ کے 453رنز، پاکستان کا دوسری اننگز میں بھی مایوس کن آغاز
سوشل میڈیا صارفین نے افسوسناک واقعہ کے بعد برطانوی کرکٹ بورڈ اور برطانوی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
صارفین کا کہنا تھا کہذرا تصور کریں کہ اگر انگلینڈ کی ٹیم کے ساتھ اس کے قریب قریب بھی کچھ ایسا ہوتا تو وہ کس قدر زار و قطار روتے۔
ایک صارف نے لکھا
ذرا تصور کریں کہ اگر ایسا پاکستان میں انگلش کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتا تو کیا ہوتا؟
پاکستان بین الاقوامی میچوں کی میزبانی کا حق کھو دیتا اور انہیں دوبارہ متحدہ عرب امارات میں کھیلنا پڑتا۔
ایک برطانوی شہری نے لکھا کہ اگر انگلینڈ کا رویہ ایسا ہی رہا تو نوبت یہاں تک آ جائے گی کہ انہیں اپنے ہوم میچز ڈبلن اور کارک میں کھیلنے پڑیں گے۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ اگر انگلش ٹیم کے ساتھ اس قسم کا کوئی واقعہ بھی پیش آ جاتا تو وہ بہت زیادہ ہنگامہ کھڑا کر دیتے۔یہ شرمناک صورتحال ہے۔
ایک صارف نے لکھا
ان برطانوی احمقوں کی وجہ سے برطانیہ جلد ہی بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔




