پاکستان ہاکی کو عالمی سطح پر اعزازات دلانے والے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور اولمپین خالد محمود طویل علالت کے بعد 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے انتقال سے پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی ایک اور اہم شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی ہے، جبکہ مرحوم کی نماز جنازہ فیصل آباد میں ادا کی جائے گی۔
روشن کیریئر اور تاریخی فتوحات:
اٹھائیس دسمبر 1941 کو جہلم میں پیدا ہونے والے خالد محمود قومی ہاکی ٹیم میں رائٹ آؤٹ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے اور وہ پاکستان کی ان تاریخی ٹیموں کا حصہ رہے جنہوں نے اولمپکس اور ایشین گیمز میں ملک کے لیے بڑے اعزازات حاصل کیے۔ انہوں نے 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں قومی ٹیم نے سلور میڈل حاصل کیا، اور پھر 1966 کے ایشین گیمز میں بھی چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
سنہ 1968 کے میکسیکو اولمپکس خالد محمود کے کیریئر کا ایک یادگار سنگ میل ثابت ہوئے جہاں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاکی کا اولمپک گولڈ میڈل جیتا اور وہ اس فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ 1970 کے بینکاک ایشین گیمز میں بھی انہوں نے قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ یوں وہ 1964 میں اولمپک سلور، 1966 میں ایشین گیمز سلور، 1968 میں اولمپک گولڈ اور 1970 میں ایشین گیمز گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیموں میں شامل رہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیج 4 کینسر اور 18 گھنٹے طویل سرجری: سابق ہاکی کپتان محمد ثقلین نے زندگی کی جنگ جیت لی
کپتانی اور انتظامی خدمات:
خالد محمود نے سنہ 1971 میں پاکستان کی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی کپتانی کے فرائض بھی انجام دیے، جس کے باعث قومی ہاکی کی تاریخ میں ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے کھلاڑی اور کپتان دونوں حیثیتوں میں ملک کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہوں نے بحیثیت کھلاڑی ہی نہیں بلکہ بعد میں انتظامی میدان میں بھی پاکستان ہاکی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کے ساتھ ساتھ قومی ہاکی ٹیم کے منیجر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔
سیاسی و سماجی شخصیات کا اظہارِ تعزیت:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سابق ہاکی کپتان اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ خالد محمود کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی قومی کھیل کے لیے دی جانے والی خدمات کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی، سابق اولمپئینز، ہاکی سے وابستہ شخصیات اور کھیلوں کے حلقوں کی جانب سے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے، اور ان کی وفات کو پاکستان ہاکی کے ایک روشن باب کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔




