ورلڈ مسلم کانگریس کا اقوام متحدہ سے حقِ خود ارادیت کا علیحدہ ایجنڈا آئٹم بحال کرنے کا مطالبہ

جنیوا میں ورلڈ مسلم کانگریس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے یہ پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے حقِ خود ارادیت سے متعلق علیحدہ ایجنڈا آئٹم کی تجویز کو دوبارہ زیرِ غور لایا جائے، تاکہ غیر ملکی قبضے کا شکار عوام، بالخصوص بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مسائل اور خدشات عالمی فورم پر پیش کرنے کے لیے مستقل اور باضابطہ پلیٹ فارم میسر آ سکے۔

اجلاس میں رپورٹ کا خیرمقدم اور الطاف حسین وانی کا خطاب:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام کے فروغ سے متعلق آزاد ماہر کے ساتھ انٹرایکٹو مکالمے کے دوران ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے الطاف حسین وانی نے آزاد ماہر کی رپورٹ A/HRC/63/24 کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں یک طرفہ طرزِ عمل، جبری اقتصادی پالیسیوں اور باہمی انحصار کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات کی درست نشاندہی کی گئی ہے، کیونکہ ایسے اقدامات ریاستوں کی خودمختار مساوات اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھرتا ہوا کثیر قطبی عالمی نظام کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ یہ نظام بین الاقوامی قانون، باہمی تعاون اور تمام اقوام کے حقوق کے احترام پر مبنی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: طاہر اندرابی نے اقوام متحدہ میں اہم ذمہ داریاں سنبھال لیں،سفارتی اسناد پیش

حقِ خود ارادیت اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال:

اس موقع پر الطاف وانی نے اقوام متحدہ کے سابق آزاد ماہر الفریڈ ڈی زایاس کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کو عوام کے حقِ خود ارادیت کو ایک علیحدہ ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کرنے کی تجویز پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، تاکہ غیر ملکی قبضے کے زیرِ تسلط عوام کو انسانی حقوق کونسل کے اندر اپنے مسائل اجاگر کرنے اور عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے مؤثر فورم مل سکے۔ انہوں نے خصوصی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کشمیری عوام کو اب بھی اپنے حقِ خود ارادیت کے استعمال سے محروم رکھا جا رہا ہے، حالانکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں آزادانہ استصوابِ رائے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے بقول، کثیرالجہتی نظام اس وقت تک اپنے وعدے پورے نہیں کر سکتا جب تک وہ حقِ خود ارادیت کا تحفظ یقینی نہیں بناتا۔

کونسل سے زور اور اختتامی سوال:

ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے نے کونسل پر زور دیا کہ وہ الفریڈ ڈی زایاس کی تجویز کی بحالی کی حمایت کریں تاکہ ابھرتے ہوئے کثیر قطبی نظام کو طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں الطاف وانی نے ماہرین سے دریافت کیا کہ آیا وہ انسانی حقوق کونسل میں حقِ خود ارادیت سے متعلق علیحدہ ایجنڈا آئٹم کی تجویز کی بحالی کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کونسل تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔

مزید پڑھیں: جنیوا: مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں، ڈاکٹر راجہ سجاد