اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (KPRI) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے جنیوا میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت جنرل ڈیبیٹ سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی مبینہ اور مسلسل کوششوں پر عالمی برادری کے سامنے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور دفترِ اقوام متحدہ برائے انسانی حقوق (OHCHR) کی مسلسل کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے اس ادارے کو درپیش مالیاتی کٹوتیوں اور بجٹ کی شدید مشکلات پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ناکافی وسائل سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی، دستاویز بندی اور رپورٹنگ کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے لیے مالی معاونت کا اپیل:
انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ OHCHR کو قابلِ پیش گوئی، مستقل اور مناسب مالی معاونت فراہم کریں تاکہ وہ اپنے مینڈیٹ کو مؤثر انداز میں ادا کر سکے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف تنازعات سے متاثرہ خطوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی سطح پر نگرانی کی ضرورت ماضی سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی دعوے مسترد کر دئیے
اگست 2019 کے اقدامات اور ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیاں:
بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے کہا کہ اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ آئینی و انتظامی اقدامات کے بعد بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیوں، من مانی گرفتاریوں، حراست اور کشمیری عوام کی سیاسی، ثقافتی اور آبادیاتی شناخت کو متاثر کرنے والے اقدامات کے حوالے سے عالمی سطح پر سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے بالخصوص ڈومیسائل اور اراضی سے متعلق قوانین میں کی جانے والی خطرناک تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات متنازعہ خطے کے بنیادی آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ لہٰذا ان کا جائزہ بین الاقوامی انسانی حقوق، انسانی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں لیا جانا لازمی ہے۔
حریت رہنماؤں کے ساتھ سلوک اور عالمی برادری کی ذمہ داری:
ڈاکٹر راجہ سجاد نے کشمیری سیاسی رہنماؤں، بالخصوص محمد یاسین ملک اور آسیہ اندرابی کے ساتھ بھارتی جیلوں میں روا رکھے جانے والے غير انسانی سلوک اور ان کے خلاف قائم سیاسی مقدمات کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی براہِ راست نگرانی میں لایا جائے اور ان کے لیے منصفانہ قانونی کارروائی اور شفاف Due Process کی ضمانت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں، وہاں بلا رکاوٹ رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں، آزادانہ دستاویز بندی کو مضبوط بنائیں اور انسانی حقوق کونسل کو پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کرتے رہیں۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جوابدہی اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا ناقابلِ تنسیخ حق ہی کشمیر کے مسئلے کا واحد حل ہے۔




