ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، اور اب آٹا 130 سے 135 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے۔

ملتان کے مختلف علاقوں میں بھی آٹے کی یہی قیمت 130 سے 135 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 15 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 2 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر شہریوں کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 15 کلو کے تھیلے کی قیمت 2 ہزار 100 روپے تک بھی وصول کی جارہی ہے۔

کم آمدنی والے طبقے اور دہاڑی داروں کی مشکلات:

آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ اخراجات پہلے ہی پورے کرنا مشکل ہے ایسے میں بنیادی ضرورت کی اشیا میں مسلسل اضافہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ متاثرہ شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے (دہاڑی دار) طبقے کے لیے مہنگائی کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ ایک شہری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ کبھی روزگار ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا، ایسے میں 15 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار روپے میں خریدنا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ ایک کلو آٹا بھی 135 سے 140 روپے میں مل رہا ہے۔ پریشان حال شہریوں نے حکومت سے یہ سوال کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں غریب عوام اپنے گھر کا چولہا کیسے جلائیں اور اپنی بنیادی ضروریات کیسے پوری کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار 4.07 فیصد اضافہ، آٹا، چینی، ایل پی جی اور دالوں کی قیمتوں میں کمی

ڈیلرز اور تاجروں کے تحفظات:

دوسری جانب آٹے کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باعث آٹے کی فروخت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ عام عوام کی قوتِ خرید مکمل طور پر جواب دے چکی ہے۔ ڈیلرز کے مطابق وہ ہول سیل نرخوں پر محض معمولی منافع کے ساتھ آٹا فروخت کر رہے ہیں، تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ان کا کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ آٹے کے تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود اس سنگین صورتحال کا مؤثر نوٹس نہیں لیا جا رہا، جس کے باعث ان کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ آخر میں شہریوں نے حکومت سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف فراہم کیا جائے۔