آپ کی روزمرہ خوراک دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ زیادہ میٹھی غذائیں دانتوں میں کیڑا لگنے یا سوراخ بننے کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں کیونکہ منہ میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا شکر کو تیزاب میں تبدیل کرتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق منہ کو صحت مند رکھنے کا تعلق صرف یہ جاننے سے نہیں کہ کیا نہیں کھانا بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ کیا کھانا چاہیے۔

سائنسی تحقیق سے منہ میں موجود خردبینی جانداروں کی ایک پوری دنیا کی اہمیت سامنے آرہی ہے جسے منہ کا مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے اور اس میں تقریباً 700 مختلف اقسام کے بیکٹیریا کے علاوہ وائرس، فنگس اور دیگر خردبینی جاندار شامل ہوتے ہیں۔ یہ مائیکرو بایوم صرف دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت ہی نہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق غذا ان جانداروں کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

منہ میں اچھے اور برے بیکٹیریا کا نظام:

منہ میں موجود مختلف جراثیم اپنے لیے الگ الگ جگہیں تلاش کرتے ہیں جن میں سے کچھ دانتوں کی سطح پر رہتے ہیں، کچھ زبان پر جبکہ بعض دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان موجود انتہائی باریک جگہوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ بیکٹیریا نقصان دہ ہوتے ہیں؛ مثال کے طور پر اسٹریپٹوکوکس میوٹنز دانتوں کی سطح پر موجود ہوتا ہے اور شکر کو پسند کرتا ہے اور یہ شکر کو تیزاب میں تبدیل کرتا ہے جو دانتوں کی حفاظتی تہہ یعنی اینامل کو نقصان پہنچاتا ہے جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ دانتوں میں سوراخ پیدا ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب بعض بیکٹیریا منہ کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں؛ مثال کے طور پر ویلونِیلا، ایکٹینومائسِس، اسٹریپٹوکوکس کی بعض اقسام اور نیسیریا نقصان دہ جراثیم کو منہ میں اپنی جگہ بنانے سے روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

منہ کے بیکٹیریا اور جسمانی بیماریوں کا تعلق:

منہ کے مائیکرو بایوم کا خراب توازن صرف دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل تک محدود نہیں رہتا۔ اگر دانت باقاعدگی سے اور اچھی طرح صاف نہ کیے جائیں تو دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان چھوٹی جیبیں بن سکتی ہیں اور آکسیجن کی کمی والے ان مقامات پر پورفائروموناس جِنجیوالِس جیسے جراثیم تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ جراثیم مسوڑھوں کی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں اور ماہرین نے انہیں دل کی بیماری، ڈپریشن، الزائمر، ذیابیطس، آنتوں کی سوزش، ریمیٹائڈ آرتھرائٹس اور قبل از وقت بچے کی پیدائش سمیت کئی صحت کے مسائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پمز ہسپتال میں اصلاحات کے لیے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم

حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے منہ کے خراب مائیکرو بایوم اور بڑی آنت اور لبلبے کے سرطان کے درمیان بھی ممکنہ تعلق تلاش کیا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں امریکا کے مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے لوگوں کے لعاب کے نمونے لیے اور بعد میں ان کی صحت کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد جن کے منہ کے مائیکرو بایوم میں دانتوں کی خرابی سے منسلک مخصوص بیکٹیریا یا کینڈیڈا نامی فنگس موجود تھی ان میں لبلبے کے سرطان کا خطرہ زیادہ پایا گیا، تاہم اس طرح کے تعلقات پر مزید تحقیق جاری ہے اور انہیں بیماری کی براہِ راست وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اچھے اور برے جراثیم :

ماہرین کے مطابق منہ میں فائدہ مند بیکٹیریا کی موجودگی دو طرح سے مدد کرسکتی ہے؛ وہ نقصان دہ جراثیم کے ساتھ خوراک اور جگہ کے لیے مقابلہ کرتے ہیں اور یوں ان کی تعداد کو محدود کرسکتے ہیں جبکہ بعض فائدہ مند بیکٹیریا براہ راست نقصان دہ جراثیم کے خلاف بھی کام کرتے ہیں۔

امریکا کی پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ماہر لورا ویرِچ کے مطابق اسٹریپٹوکوکس خاندان میں ایسے بیکٹیریا بھی موجود ہیں جو زیادہ تیزاب پیدا نہیں کرتے اور ان جراثیم پر حملہ کرسکتے ہیں جو تیزاب پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایس سیلیویریئس نامی فائدہ مند بیکٹیریا ایسے پروٹین پیدا کرتا ہے جو مختلف نقصان دہ جراثیم کو ختم کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ ان میں سے بعض ایسے جراثیم بھی ہیں جو عام اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔

سبزیاں، لہسن اور پودوں پر مبنی غذائیں:

اگر منہ کے مائیکرو بایوم کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال مددگار ہوسکتا ہے۔ کیل، پالک، چقندر اور مولی جیسی سبزیوں میں نائٹریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جسے منہ میں موجود نیسیریا بیکٹیریا استعمال کرتے ہیں۔ یہ جراثیم نائٹریٹ کو نائٹرائٹ میں تبدیل کرتے ہیں جس کے بعد جسم میں یہ عمل آگے بڑھتا ہے اور خون کی نالیوں کو پھیلانے والے مرکبات بننے میں مدد ملتی ہے جس کا تعلق بلڈ پریشر میں کمی اور دل کی صحت سے بھی جوڑا گیا ہے؛ ایک تحقیق میں عمر رسیدہ افراد نے 2 ہفتے تک روزانہ 2 مرتبہ نائٹریٹ سے بھرپور چقندر کا جوس پیا تو ان کے بلڈ پریشر میں کمی دیکھی گئی۔

کچا لہسن چبانے سے سانس میں بو ضرور پیدا ہوسکتی ہے لیکن اس میں موجود ایلیسن نامی کیمیائی مرکب منہ کے ان بیکٹیریا کے خلاف اثر انداز ہوسکتا ہے جو دانتوں میں سوراخ اور مسوڑھوں کی بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ تر نباتاتی غذاؤں پر مشتمل خوراک منہ کے مائیکرو بایوم کے لیے کئی دوسرے طریقوں سے بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ پودوں میں پائے جانے والے پولی فینولز ایسے مرکبات ہیں جو پودوں کے خلیوں کو مختلف ماحولیاتی اثرات سے بچانے میں مدد دیتے ہیں اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مرکبات بعض نقصان دہ بیکٹیریا کے خلاف بھی اثر رکھتے ہیں۔

چائے، بیریز، شہد اور پنیر کے فوائد:

چائے میں موجود پولی فینولز منہ میں دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری سے منسلک بعض نقصان دہ بیکٹیریا کو دبانے میں مدد کرسکتے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ مرکبات دانتوں پر تہہ جمانے والے مادے یعنی پلاک کو چپکنے میں مدد دینے والے ایک خامرے کے عمل کو بھی روک سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں چائے پینے سے زبان کے پچھلے حصے میں موجود بدبو پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی سرگرمی میں بھی کمی دیکھی گئی۔ پولی فینولز کئی پھلوں، خصوصاً گہرے رنگ کی بیریز میں بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ حیران کن لگ سکتا ہے کہ تیزاب اور قدرتی شکر رکھنے والے بعض پھل منہ کے لیے فائدہ مند ہوسکتے ہیں لیکن تحقیق کے مطابق کرین بیری کا جوس دانتوں پر پلاک بننے اور دانتوں کی خرابی و مسوڑھوں کی بیماری سے منسلک بعض بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔ شہد میں بھی پولی فینولز پائے جاتے ہیں اور کچھ تحقیق میں اسے پلاک بننے اور دانتوں میں سوراخ پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے خلاف مفید پایا گیا ہے، تاہم شہد میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے اسے بھی اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔

پنیر بھی منہ کے لیے مفید غذاؤں میں شامل ہوسکتا ہے۔ اٹلی میں ہونے والی ایک چھوٹی تحقیق میں 9 افراد کو 5 دن تک روزانہ گرانا پادانو پنیر کھلایا گیا تو ان کے منہ میں موجود بیکٹیریا کی ساخت میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی جہاں نقصان دہ اسٹریپٹوکوکس میوٹنز کی تعداد کم جبکہ نسبتاً صحت مند منہ میں پائے جانے والے اسٹریپٹوکوکس سانگوئینِس میں اضافہ دیکھا گیا۔ پنیر دانتوں پر شکر کے مضر اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد کرسکتا ہے کیونکہ پنیر چبانے سے لعاب زیادہ بنتا ہے جو منہ میں موجود اضافی شکر کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے اور چونکہ لعاب نسبتاً غیر تیزابی ہوتا ہے اس لیے یہ منہ میں پیدا ہونے والے تیزاب کے اثر کو بھی زائل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

خمیر شدہ غذائیں اور بحیرہ روم طرز کی خوراک:

خمیر شدہ غذاؤں میں فائدہ مند بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو نقصان دہ جراثیم سے مقابلہ کرسکتے ہیں؛ مثال کے طور پر کیفِر، جو خمیر شدہ دودھ سے تیار ہونے والی غذا ہے، بعض نقصان دہ جراثیم کی افزائش اور ان کی چپکنے والی تہہ بنانے کی صلاحیت کو روک سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی غذاؤں اور مشروبات کا استعمال محدود کرنا چاہیے جن میں شکر کی مقدار زیادہ ہو یا مصنوعی و صاف شدہ کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کا زیادہ استعمال نہ کیا جائے جو منہ میں آسانی سے شکر میں تبدیل ہوجاتی ہیں، جن میں سفید ڈبل روٹی، کریکرز، بسکٹ، کیک اور پریٹزلز شامل ہیں۔ بار بار صاف شدہ شکر اور آسان کاربوہائیڈریٹس کے استعمال سے تیزاب پیدا کرنے والے جراثیم بڑھتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس سبزیاں، ثابت پھل، دالیں، ثابت اناج، غذائی فائبر اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل خوراک منہ کے بیکٹیریا کے ماحول کو متوازن رکھتی ہے۔

 

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جن افراد کی خوراک بحیرہ روم کے طرز خوراک (پھل، سبزیاں، ثابت اناج اور صحت مند چکنائیاں) سے زیادہ قریب تھی ان میں مسوڑھوں کی بیماری نسبتاً کم شدید پائی گئی، جبکہ اس طرزِ خوراک کی کم پیروی کرنے والوں اور سرخ گوشت کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں مسوڑھوں کی بیماری زیادہ شدید تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پروٹین منہ میں پورفائروموناس جِنجیوالِس جیسے نقصان دہ جراثیم کے لیے موزوں ماحول بناتا ہے۔

صفائی کی اہمیت اور ماہرین کا خلاصہ:

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ صحت مند غذا اہم ضرور ہے لیکن دانتوں کی صفائی کا متبادل نہیں کیونکہ دانتوں کو باقاعدگی سے برش کرنا اور دانتوں کے درمیان فلاس استعمال کرنا اب بھی انتہائی ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق فلاس کرنے سے دانتوں میں خرابی پیدا کرنے والے اسٹریپٹوکوکس میوٹنز کی مقدار کم ہو سکتی ہے جبکہ دانتوں اور زبان کی صفائی سے بیماریوں کا باعث بننے والے جراثیم کم ہوتے ہیں۔ عام ماؤتھ واش کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق جاری ہے اور ماہرین ایسے ماؤتھ واش تیار کرنے کی امید رکھتے ہیں جو تمام بیکٹیریا ختم کرنے کے بجائے توازن برقرار رکھیں، البتہ کلورہیکسیڈین پر مشتمل بعض ماؤتھ واش توازن متاثر کرنے کے باوجود مختصر مدت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ یہی ہے کہ کسی ایک ‘سپر فوڈ’ پر انحصار کے بجائے مجموعی متوازن خوراک اختیار کی جائے۔ سبزیاں (خصوصاً سبز پتوں والی)، ثابت پھل، دالیں، ثابت اناج، کم چکنائی والی پروٹین، خمیر شدہ غذائیں، پنیر اور چائے جیسی غذائیں استعمال کی جائیں اور میٹھی اشیا و صاف شدہ کاربوہائیڈریٹس کو محدود رکھا جائے تاکہ دانتوں اور جسم دونوں کی صحت برقرار رہے۔