آزاد کشمیر کے سیاسی افق پر 15 برس تک مسلسل محنت، عوامی روابط اور عدم ناکامی کے عزم کے ساتھ جدوجہد کرنے والے نوجوان رہنما راجا ثاقب مجید نے 2026 کے عام انتخابات میں شاندار فتح حاصل کر کے پہلی بار قانون ساز اسمبلی میں قدم رکھ دیا ہے۔ تین بار انتخابی میدان میں ناکامی کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر اپنی منزل حاصل کر لی۔
سیاسی میدان میں 2011 میں قدم رکھنے والے راجا ثاقب مجید کو اپنے پہلے انتخابی معرکے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس کے بعد 2016 کے انتخابات میں بھی وہ اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ سال 2021 کے عام انتخابات میں وہ کامیابی کے بے حد نزدیک پہنچ گئے تھے لیکن محض 1343 ووٹوں کے معمولی فرق سے معرکہ ہار گئے۔ ان تمام ناکامیوں اور نتائج کے باوجود ان کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی اور وہ مسلسل میدان میں ڈٹے رہے۔
2026 کا انتخاب اور فیصلہ کن کامیابی:
سال 2026 کے عام انتخابات میں راجا ثاقب مجید نے اپنی 15 سالہ محنت کا پھل حاصل کر دکھایا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے چوہدری لطیف اکبر کے مقابلے میں 32 ہزار 511 ووٹ حاصل کر کے شاندار کامیابی سمیٹی، جبکہ ان کے حریف پیپلز پارٹی کے امیدوار صرف 23 ہزار 957 ووٹ حاصل کر سکے۔ اس طرح راجا ثاقب مجید نے 8 ہزار 554 ووٹوں کی نمایاں اور واضح برتری سے اپنے مدقابل کو شکست کا مزہ چکھایا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے ملک میں بیٹھ کر متحدہ عرب امارات میں ملازمت! اپلائی اخراجات بھی ختم
تجربے کے مقابلے میں نوجوان کی برتری:
راجا ثاقب مجید کی اس انتخابی کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کیونکہ ان کا مقابلہ آزاد کشمیر کی سیاست کے انتہائی تجربہ کار سیاستدان چوہدری لطیف اکبر سے تھا، جو انتخابات کے موقع پر ریاست کے قائم مقام صدر کی ذمہ داری بھی نبھا رہے تھے۔ یہی وہ حریف تھے جن سے 2021 میں راجا ثاقب مجید بہت ہی باریک فرق سے ہارے تھے، مگر 2026 میں انہوں نے اسی میدان میں بھاری برتری حاصل کر کے اپنی سیاسی قوت اور عوامی مقبولیت ثابت کر دی۔
وزارتِ توانائی و آبی وسائل کا اہم قلمدان:
انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہی نئ قائم ہونے والی آزاد کشمیر حکومت میں راجا ثاقب مجید کو اہم ترین قومی ذمہ داری سے نوازا گیا ہے۔ انہیں وزیر توانائی و آبی وسائل کا قلمدان سونپا گیا ہے، جس کا انہوں نے باقاعدہ طور پر چارج بھی سنبھال لیا ہے۔ توانائی اور آبی وسائل کا شعبہ آزاد کشمیر کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے جہاں پن بجلی کی پیداوار کے وسیع مواقع اور پانی و توانائی کے دیگر اہم امور اس وزارت کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
مسلسل جدوجہد اور مستقبل کا سیاسی افق:
راجا ثاقب مجید کے سیاسی سفر کا سب سے نمایاں اور روشن پہلو مسلسل تین انتخابی ناکامیوں کے باوجود میدان نہ چھوڑنا اور ہمت نہ ہارنا ہے۔ ہر ناکامی کے بعد وہ مزید قوت اور تیاری کے ساتھ واپس لوٹے اور بالآخر چوتھی کوشش میں فتح کا پرچم لہرایا۔ تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر راجا ثاقب مجید ماضی کی طرح اپنے حلقے کی عوام کے ساتھ اپنا رابطہ اور تعاقات استوار رکھتے ہیں تو وہ چوہدری لطیف اکبر کی طرح ایک لمبا سیاسی کیریئر بنانے میں کامیاب ہوں گے اور ان کا سیاسی سفر صرف ان 5 سالوں تک ہی محدود نہیں رہے گا۔




