پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچوں کی اموات کے بعد حکومت نے ہسپتال کے انتظامی اور طبی امور میں بہتری کیلئے اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کو ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت نے پمز ہسپتال میں اصلاحات اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی پمز ہسپتال پہنچ گئے، زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت ،عزم کو سراہا
کمیٹی میں سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ صحت اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی کمیٹی پمز اسپتال کے موجودہ انتظامی ڈھانچے، طبی سہولیات، مریضوں کی دیکھ بھال اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی اسپتال کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ انہیں دور کرنے کیلئے قابلِ عمل تجاویز بھی پیش کرے گی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرنے کے بعد جامع رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔
وزیراعظم کی جانب سے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پمز ہسپتال کے انتظامی امور اور مستقبل کے نظام سے متعلق حتمی فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پمز کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے بورڈ آف گورنرز تشکیل دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
بورڈ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور افراد کو شامل کیا جائے گا، جو ہسپتال کے انتظامی اور پالیسی امور کی نگرانی کریں گے۔
واضح رہے کہ پمز میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کو معطل کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے معطل افسران کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی بھی شروع کی جا چکی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں پہلا مونکی پاکس کیس سامنے آگیا،مریض پمز ہسپتال منتقل
حکومت کی جانب سے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کو پمز کے انتظامی نظام میں ممکنہ اصلاحات کیلئے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔




