قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی کے لیے صرف امریکہ اور دیگر عالمی اتحادوں پر انحصار نہیں کر سکتے، ان کو اپنی سکیورٹی کے معاملے میں خود پر زیادہ انحصار کرنا ہو گا۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں پیر کو ہیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطے میں عالمی افواج کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک اتحاد بہت ہے، مگر یہ کافی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر طویل عجیب و غریب پوسٹوں سے طوفان برپا
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’سکیورٹی کے معاملے میں خود پر انحصار ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ ہمیں اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کی ضرورت ہے لیکن ہم اپنی سلامتی کے لیے صرف ان پر انحصار نہیں کر سکتے۔
قطر امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس کو ایران کی جانب سے خاص طور پر توانائی کے انفراسٹرکچر پر شدید حملوں کا سامنا بھی رہا ہے۔
قطر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی بیس کا میزبان ہے اور جنگ کے دوران ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور خطے کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
چھ ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے دونوں حریف ممالک کے معاملات تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹیں ڈالی ہیں تو امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کے خلاف جواب میں بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روسی صدر پوتن سے امریکی نمائندوں کی ملاقات میں بڑی پیشرفت،3روزہ جنگ بندی
پچھلے مہینے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدرالرحمان آل ثانی نے ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کیا تھا۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عمان جو آبنائے ہرمز کے دونوں کناروں پر واقع ہیں، نے عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی کے حوالے سے بات چیت کا اعلان کیا تھا۔




