اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) کشمیر سے متعلق احتجاج کے دوران گرفتار سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر 96 افراد کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں سیکٹر ایف 10 میں کشمیر کے حوالے سے ہونے والے مظاہرے کے خلاف درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور عوام کا کالعدم ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال سے لا تعلقی کا اعلان
عدالت نے مقدمے میں گرفتار ملزمان کی جانب سے دائر درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے گرفتار ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لیں۔

عدالت نے ملزمان کو پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان اور کشمیر یکجہتی جلسے کے بعد گرفتار کیے گئے تمام کشمیری طلبہ کی ضمانت منظور کر لی گئی۔
تمام کو آج عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
الحمدللہ، بڑی قانونی پیش رفت-
~ایڈمن pic.twitter.com/VoTmfQ3Vol
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) September 7, 2026
پولیس کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے احتجاج میں شرکت کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بارکونسل کا عوامی مسائل حل کیلئے وزیراعظم گیلانی سے ملاقات کا فیصلہ
گرفتار ملزمان نے عدالت سے ضمانت کیلئے رجوع کیا تھا۔عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کیے جانے کے بعد مقدمے میں گرفتار افراد کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں کشمیر کے حوالے سے ہونے والے احتجاج کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے میں دہشت گردی سمیت مختلف دفعات شامل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔




