امریکی رکنِ کانگریس ڈیلیا رامیرز نے ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ صدر کے جنگی اختیارات پر نظرِ ثانی کرے اور ’’بلاک دی بمبز ایکٹ‘‘ منظور کرے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں ڈیلیا رامیرز نے کہا کہ امریکا کی جانب سے فلسطین اور ایران سمیت مختلف علاقوں میں کئے جانے والے فوجی حملوں کے نتیجے میں معصوم شہری، بالخصوص خواتین اور بچے، اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جنگی پالیسیوں اور مبینہ جنگی جرائم پر مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔
ڈیلیا رامیرز نے ’’بلاک دی بمبز ایکٹ‘‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد کانگریس کو جنگ اور فوجی کارروائیوں سے متعلق اپنے آئینی اختیارات دوبارہ استعمال کرنے کے قابل بنانا ہے تاکہ امریکا کو ایسی جنگوں میں مزید الجھنے سے روکا جا سکے جن کے خاتمے کی کوئی واضح مدت نظر نہیں آتی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کو بڑا سرپرائز ملنے کو تیار، چونکا دینے والی حکمت عملی تیار کر لی ہے، ایران
امریکی رکنِ کانگریس کا کہنا تھا کہ کانگریس کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جنگی پالیسیوں پر مؤثر نگرانی کرنی چاہیے اور ایسے اقدامات کی راہ روکنی چاہیے جن کے نتیجے میں شہری آبادی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا کی خارجہ اور فوجی پالیسی کا مرکز انسانی جانوں کا تحفظ اور جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے نہ کہ مزید فوجی کارروائیوں اور بمباری کا سلسلہ جاری رکھنا۔
ڈیلیا رامیرز کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور واشنگٹن کی جنگی پالیسی پر امریکی سیاسی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کے پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے، کشیدگی پھر بڑھ گئی
ان کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس کے بعض ارکان صدر کے جنگی اختیارات اور امریکی فوجی مداخلت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کیلئے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں۔




