نیویارک (کشمیر ڈیجیٹل) نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے سرکاری پرائمری اور مڈل اسکولوں میں طلبہ کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر ایک سال کی پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس فیصلے سے آٹھویں جماعت تک کے تقریباً 6 لاکھ طلبہ متاثر ہوں گے، جبکہ اسے کسی بھی بڑے امریکی اسکول ڈسٹرکٹ کی جانب سے اٹھایا جانے والا اب تک کا سخت ترین اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت سرکاری اسکولوں میں تدریسی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے تقریباً 40 اے آئی تعلیمی ٹولز کو فوری طور پر روک دیا جائے گا، جبکہ تمام جماعتوں کیلئے اے آئی چیٹ بوٹس پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مفت سم کیلئے تاریخ 10ستمبر ، رقم پوری وصول کریں، بلیک میلنگ میں نہ آئیں ، ترجمان بی آئی ایس پی
میئر ظہران ممدانی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی بہتر نشوونما اور سیکھنے کے عمل کے لیے انسانی رابطہ اور اساتذہ کی توجہ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کو اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر مہارتیں سیکھنی چاہئیں، اساتذہ کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے چاہئیں اور مشکل مسائل کو خود حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔
ہائی اسکول کے طلبہ:
ہائی اسکول کے طلبہ کو مخصوص حالات میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی اور انہیں مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی و تربیتی کلاسز بھی دی جائیں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کا بڑا اقدام، پمز کی نرس کو ایک کروڑ روپے کا چیک مل گیا
اساتذہ کے لیے سہولت: اساتذہ کو اسباق کی منصوبہ بندی (Lesson Planning) اور انتظامی امور کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
خصوصی استثنا: خصوصی ضروریات کے حامل طلبہ (Special Needs Students) اور بعض مخصوص تعلیمی پروگراموں کے لیے پالیسی میں رعایت رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں اس سے قبل 2022 میں بھی چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی جسے بعد میں اٹھا لیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق موجودہ ایک سالہ پابندی کے دوران کلاس رومز میں اے آئی کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جس کی روشنی میں مستقبل کی مستقل تعلیمی پالیسی اور سفارشات مرتب کی جائیں گی۔




