سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ خوش آئند،ترجمان ڈی ایف پی

Pakistan SCO Summit 2026

سرینگر(کشمیر ڈیجیٹل)جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، معاہدوں کی پاسداری اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف ایک اہم اصولی پیش رفت قرار دیا ہے۔

ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے میں اس امر کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے فریقین میں سے کوئی ایک فریق اپنی مرضی سے ایسا یکطرفہ قدم نہیں اٹھا سکتا جو معاہدے کے بنیادی ڈھانچے اور دوسرے فریق کے حقوق کو متاثر کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ محض پانی یا دریاؤں کے معاملے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک اہم اصول پوشیدہ ہے: بین الاقوامی معاہدوں اور متنازعہ علاقوں سے متعلق معاملات میں طاقت کے زور پر یکطرفہ فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نلوچھی پل کی بیشتر لائٹس خراب، مظفرآباد کی خوبصورتی متاثر

ترجمان نے کہا کہ چونکہ سندھ طاس معاہدہ جموں کشمیر کے متنازعہ خطے سے گزرنے والے دریاؤں اور وہاں قائم آبی منصوبوں سے براہِ راست متعلق ہے، اس لیے یہ فیصلہ بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات پر بھی سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے جن کے ذریعے وہ جموں کشمیر کی زمینی اور سیاسی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی اسی ذہنیت کی عکاس تھی۔

بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی متنازعہ خطے پر یکطرفہ آئینی، انتظامی یا قانونی اقدامات کے ذریعے نہ تو اس تنازعے کی حقیقت ختم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو سلب کیا جا سکتا ہے۔

ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا فیصلہ کشمیری عوام کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ بھارت کا کوئی یکطرفہ فیصلہ جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ کشمیر کی حیثیت کا فیصلہ طاقت، قبضے یا یکطرفہ قانون سازی سے نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور دنیا آج بھی اس تنازعے کے حتمی حل کی منتظر ہے۔ بھارت کی طرف سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات ان بین الاقوامی ذمہ داریوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حق کو ختم نہیں کر سکتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سرکاری امور میں غفلت، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی چوہدری سجاد حسین معطل

عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لے اور جموں کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے لیے بامعنی سفارتی کوششیں تیز کرے۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ پاکستان کے عوام کے لیے خوش آئند ہے، لیکن کشمیری عوام کے لیے اس کا پیغام اس سے بھی زیادہ اہم ہے: یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں اور عوام کے تسلیم شدہ حقوق کو ختم نہیں کر سکتے۔

جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ جموں کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک فریق کے یکطرفہ فیصلے کے ذریعے۔

Pakistan SCO Summit 2026