سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی زیرصدارت اہم اجلاس، آزادکشمیر الیکشن چیلنج کرنے کا فیصلہ

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم و صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی سربراہی میں ٹکٹ ہولڈرز اور مرکزی رہنماؤں کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں آزادکشمیر میں حالیہ انتخابی عمل، پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر انتخابات نہ ہونے، انتخابی حلقوں میں دھاندلی، حکومتی مشینری کے ناجائز استعمال، وفاقی حکومت کی غیر ضروری مداخلت اور دیگر حل طلب ریاستی و سیاسی معاملات پر شدید تشویش کا اظہارکیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء کی چیئرمین آئی پی پی عبدالعلیم خان اور صدر آئی پی پی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سرکاری امور میں غفلت، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی چوہدری سجاد حسین معطل

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آزادکشمیر کو سیاسی تجربہ گاہ بنانے، عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور ریاست کے آئینی و جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں ۔

سردار تنویر الیاس خان نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر انتخابات نہ ہونے، عجلت میں حکومت سازی کرنے، صدرِ ریاست کے انتخاب نہ کروانے، مخصوص نشستوں اور انتخابی عمل سے متعلق دیگر معاملات کا آئینی و قانونی جائزہ لے کر عدالتوں اور متعلقہ قانونی فورمز پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس سردار پلازہ، بلیو ایریا اسلام آباد میں صدر آئی پی پی آزاد جموں و کشمیر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر انصر ابدالی نے اجلاس کی کارروائی چلائی۔

اجلاس میں سابق وزیر حکومت علی شان ، سابق وزیر حکومت طاہر کھوکھر، سابق وزیر صبیحہ صادق، سابق وزیر حکومت تقدیس گیلانی، سابق مشیر حکومت کرنل ریٹائرڈ معروف، سابق مشیر صدارتی امور سردار عنایت اللہ عارف سمیت آئی پی پی آزادکشمیر کے ٹکٹ ہولڈرز، مرکزی و ریاستی رہنماؤں اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور حالیہ سیاسی و انتخابی صورتحال پر تفصیلی غور کیا۔

اجلاس کے شرکاء نے آزادکشمیر میں ہونے والے انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی، مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی سیاسی مداخلت، حکومتی مشینری کے غیر قانونی استعمال اور الیکشن کمیشن کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات محض سیاسی جماعتوں کا معاملہ نہیں بلکہ آزادکشمیر میں جمہوری نظام، عوامی اعتماد اور ریاستی اداروں کی ساکھ سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سابق کرکٹر سعید اجمل کرکٹ ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ پر برہم، عاقب جاوید کو ہٹانے کا مطالبہ

شرکاء نے کہا کہ 1975ء کے انتخابات کی تاریخ ایک بار پھر دہرائے جانے کا تاثر انتہائی تشویشناک ہے اور موجودہ صورتحال نے عوام میں بے یقینی، اضطراب اور سیاسی بے چینی کو جنم دیا ۔

اجلاس نے اس امر پر زور دیا کہ یہ وقت سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے ریاستی مفاد، جمہوری روایات کے تحفظ اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کے احترام کا ہے۔

شرکاء اجلاس نے کہا کہ وفاقی حکومت کو آزادکشمیر کے انتخابات اور دیگر دیرینہ و حل طلب ریاستی معاملات پر پیدا ہونے والے موجودہ بحران کی سیاسی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی مداخلت اور عوامی مینڈیٹ کو متاثر کرنے کی کوششوں کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی حکمت عملی نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ اس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔

آئی پی پی آزادکشمیر کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ریاستی معاملات میں غیر شفاف سیاسی طرزِ عمل سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کے اثرات آزادکشمیر کی سیاسی و جمہوری حیثیت کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کے کردار پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات نشستوں پر انتخابات نہ کروائے جانے، عجلت میں حکومت سازی، صدرِ ریاست کے انتخاب، مخصوص نشستوں کی تقسیم، انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور دیگر متنازع اقدامات سمیت تمام معاملات کا مکمل آئینی و قانونی جائزہ لیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی اور جہاں ضروری سمجھا گیا وہاں متعلقہ عدالتوں اور قانونی فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔

آئی پی پی آزادکشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی تحریک آزادی کشمیر، ریاستی تشخص، آئینی حقوق، جمہوری روایات اور بیس کیمپ کے تاریخی کردار کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ آزادکشمیر کے عوام کے سیاسی حقوق اور ان کے ووٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پارٹی آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہر سطح پر اپنا مؤقف اجاگر کرے گی۔

Pakistan SCO Summit 2026