لاہور(کشمیر ڈیجیٹل ) پنجاب حکومت کی جانب سے ضلع نارووال کے سراج گاؤں میں 100 سال سے زیادہ پرانے ہندو مندر سے متعلق ڈان کی حالیہ رپورٹ پر تردیدی وضاحت جاری کردی۔
ناروال کے گائوں سراج میں سو سالہ پرانہ ہندو مندر 21 اگست 2026 کو موسلادھار بارش کی وجہ سے منہدم ہو گیا تھا ، ڈان کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیدیا ۔
پنجاب حکومت کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی ہے کہ مذکورہ مندر کی ملحقہ اراضی ایک مدرسے کو لیز پر دی گئی ہے مگر مندر کی اپنی زمین کسی کو بھی لیز پر نہیں دی گئی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سماہنی : یومِ دفاع پاکستان کی تقریبات، انتظامات کو حتمی شکل دیدی
پنجاب حکومت کے مطابق ڈان نیوز کی جانب سے مندر کے حوالے سے پھیلائی گئی خبریں بے بنیاد ہیں ۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اقلیتی امور کے وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھی مندر کا دورہ کیا اور کچھ حصہ موسلا دھار بارش کی وجہ سے منہدم ہوا دیکھا جسے حکومت نے بحالی کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ ذمہ دارانہ صحافت الزامات پر مبنی رپورٹنگ کے بجائے دعویٰ اور حقیقت کے درمیان واضع طور پر فرق کو محسوس کرنا چاہیے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم : سرکاری اراضی پر ناجائز تعمیرات اور تجاوزات کیخلاف دفعہ 144 نافذ
جب کسی معاملے میں مذہبی عبادت گاہ جیسا حساس مسئلہ شامل ہو تو ہر دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹ سے انتشار پھیلے اور جب مذہبی ظلم و ستم کا اشارہ دینے والا بیانیہ زور پکڑجائے تو فرقہ وارانہ ہم آہنگی، پاکستان میں عوامی اعتماد کو شاید ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی صحافی نے سوسالہ مندر پر ڈان کی سٹوری سوشل میڈیا پر شیئر کردی اور پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا شروع کردیاجس میں اس نے مندر کو گرانے کی بات کی ہے حالانکہ پنجاب حکومت نے اس کی وضاحت بھی جاری کردی




