پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو ہائیڈرو منصوبے پر کام روکنے کا حکم

Pakistan SCO Summit 2026

عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام روکنے اور پاکستان کے ساتھ طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرنے کا حکم دے دیا۔

دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں بھارت کو ہدایت کی کہ وہ متنازع ہائیڈرو پراجیکٹس پر کام فوری طور پر معطل کرے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد یقینی بنائے،عدالت کے فیصلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے پانی سے متعلق حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔

ثالثی کی مستقل عدالت نے پیر کے روز کہا کہ بھارت کو کشمیر کے علاقے میں ایک ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ پر کام کو محدود کرنا چاہیے اور پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے معاہدے کو برقرار رکھنا چاہیے جو اس نے اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے معطل کر دیا تھا۔

ہیگ میں قائم عدالت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر برقرار ہے، کیونکہ بھارت کے پاس معاہدے کو ختم کرنے یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ عالمی بینک کی طرف سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک فیصلہ کرے گا کہ آیا ہمالیائی خطے میں ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی تعمیر معاہدے کے مطابق تھی یا نہیں۔

ہیگ میں قائم ٹربیونل نے یہ ایوارڈ بھارت کے Ratle ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق معاہدے کی حیثیت اور عبوری اقدامات پر جاری کیا، یہ پانچ رکنی ثالثی پینل جس کی صدارت پروفیسر شان ڈی مرفی کر رہے تھے۔

یہ فیصلہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں ایک مہلک حملے کے بعد جس میں 26 شہری مارے گئے تھے، پانی کی تقسیم کے معاہدے کو منسوخ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

نئی دہلی نے ثبوت پیش کئے بغیر اس حملے کو پاکستان سے جوڑ دیا۔ اسلام آباد نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔

پاکستان نے فوری طور پر اپنے پانی کے حصے کو معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کوجنگ کا عمل قرار دیا یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ معاہدے میں یکطرفہ طور پر معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اسلام آباد نے بعد میں دلیل دی کہ ہندوستان کا یہ اقدام 1969 کے ویانا کنونشن کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

ٹربیونل کے فیصلے نے پاکستان کی زراعت اور معیشت کیلئے انتہائی اہم دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا اس میں خلل ڈالنے کی بھارت کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔

عدالت نے اس بات کی توثیق کی کہ یہ معاہدہ نافذ العمل ہے اور کوئی بھی فریق باہمی رضامندی کے بغیر اسے واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی معطل کر سکتا ہے۔

حکومت پاکستان نے اس ایوارڈ پر “انتہائی اطمینان” کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے معاہدے کی پوزیشن کا تزویراتی استحکام قرار دیا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ رن آف ریور پلانٹس کیلئے تالاب کو اصل پراجیکٹ کی ضروریات، سائٹ ہائیڈرولوجی اور پاور سسٹم کی ضروریات کی بنیاد پر جائز قرار دیا جانا چاہیے بجائے اس کے کہ صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔

Pakistan SCO Summit 2026