پی پی پی آزاد کشمیر کی اہم پریس کانفرنس! 7 ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی حساب اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بڑا موقف

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد (31 اگست 2026): پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت نے اسلام آباد میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی سات ماہ کی حکومت کا مقصد سیاست کرنا نہیں بلکہ ریاست کو بچانا، سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اور مشکل حالات میں ریاستی معاملات کو درست سمت پر گامزن کرنا تھا۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیاکہ حکومت نے سیاسی، انتظامی اور مالی مشکلات کے حل کے لیے اہم اقدامات کیے، ملازمین کے دیرینہ مسائل حل کیے، آزاد کشمیر بینک کو شیڈول بینک کا درجہ دلانے کے لیے 10 ارب روپے فراہم کیے، اور ٹورازم و زراعت کے شعبوں پر بالخصوص توجہ دی۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی آزادکشمیر کی قیادت کل اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرے گی

پیپلز پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ رشتہ انتہائی حساس ہے اور اس رشتے میں کسی قسم کی دراڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن نے حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی اور اس کی سزا انہیں موجودہ سیٹ اپ کی صورت میں ملی، اور ہمیں یہ کمپنی آگے چلتی نظر نہیں آتی۔ پریس کانفرنس سے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، صدر پی پی پی آزاد کشمیر و اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یسین اور سابق صدر سردار محمد یعقوب خان نے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر میاں عبدالوحید، عبدالماجد خان، قاسم مجید چوہدری، دیوان چغتائی، فرزانہ یعقوب، زوبیہ خورشید راجہ اور احمد صغیر بھی موجود تھے۔

سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا خطاب

سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے؛ شہ رگ میں تکلیف ہو تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے، اور گزشتہ چند ماہ سے آزاد کشمیر کی صورتحال کے باعث پورے پاکستان میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سات ماہ قبل انتہائی مشکل حالات میں آزاد کشمیر میں حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تھی، جب سیاسی و انتظامی نظام شدید مشکلات کا شکار تھا اور عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست بچانے کے بجائے ریاست اور سیاسی نظام کو بچایا اور پہلی کابینہ میٹنگ میں ہی ان تمام بنیادی مسائل کو ایڈریس کیا جن سے مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔

ملازمین کی پروموشنز، مستقلی اور معاشی اصلاحات

فیصل ممتاز راٹھور نے حکومت کی انتظامی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر کے تمام سرکاری محکموں میں ملازمین کے پینڈنگ معاملات حل کیے گئے، پروموشنز سمیت 2021 سے زیر التوا تمام کیسز نمٹا دیے گئے اور کوئی کیس باقی نہیں چھوڑا گیا جس سے محکموں میں کام کا ماحول بہتر ہوا۔ اس کے علاوہ عارضی ملازمین کی مستقلی کا معاملہ حل کیا گیا اور بیلداروں کو بھی مستقل کیا گیا۔ معاشی سطح پر آزاد کشمیر بینک کو شیڈول بینک کا درجہ دینے کے لیے 10 ارب روپے فراہم کیے گئے اور پراپرٹی ٹیکس کم کر کے پنجاب کے برابر لایا گیا۔

ٹورازم، زراعت اور وفاق کے ساتھ مالی درپیش مسائل

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا سب سے بڑا پوٹینشل ٹورازم ہے جس پر ماضی کی حکومتوں نے توجہ نہیں دی، جبکہ ان کی حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اسی طرح زرعی شعبے پر پہلی مرتبہ بھرپور توجہ دیتے ہوئے پہلی ایگریکلچر کانفرنس منعقد کی گئی اور زراعت کی ترقی کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے وفاقی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی اور مالی مسائل کے حل کے لیے بارہا اسلام آباد گئے، مگر آزاد کشمیر کو 159 ارب روپے کی ویری ایبل گرانٹ میں سے 9 ارب روپے بھی آخری وقت تک نہیں مل سکے۔ انہوں نے اپنے حلقے میں دانش اسکول اور اوورسیز انویسٹمنٹ کانفرنس میں تعاون پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مہاجرین نشستوں کا تنازع، پونچھ پیکیج اور الیکشن کا مطالبہ

انتخابات اور سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ تین مراحل میں انتخابات کے باوجود پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی، اس کے باوجود پارٹی نے 14 نشستیں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں نمایاں تھا؛ اگر یہ نشستیں نصف کر دی جاتیں تو آج یہ بحران پیدا نہ ہوتا، مگر اس وقت مسلم لیگ ن اس قانون سازی کے لیے تیار نہیں تھی اور اس نے ریاست کے بجائے سیاست کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے پہلے پاپولر وزیراعظم اور بعد میں قاتل وزیراعظم کہا گیا، مگر میرا ضمیر مطمئن ہے کیونکہ میں نے ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں کر کے اور ان کے گھر تک جا کر جانیں بچانے کی پوری کوشش کی”۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1977 سے 2026 تک کے 50 سالہ عرصے میں پیپلز پارٹی کو صرف ساڑھے 12 سال حکومت ملی مگر ترقیاتی منصوبوں میں پی پی پی کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے ن لیگ کے وعدوں کے مطابق بجٹ میں اضافے اور پونچھ کے 7 حلقوں میں الیکشن کرانے سمیت ‘پونچھ پیکیج’ کا مطالبہ کیا۔

صدر پی پی پی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین کی گفتگو

صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر و اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سیاست کے بجائے ریاست کے لیے کام کیا اور جمہوری و سیاسی نظام کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے آزاد کشمیر کے عوام کو ووٹ کا حق دیا، اور آصف علی زرداری و بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھی کشمیر کے لیے تاریخی کام ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ادوار میں آزاد کشمیر میں 5 یونیورسٹیاں اور 3 میڈیکل کالجز قائم ہوئے جہاں سے آج تقریباً ساڑھے تین سو بچے ایم بی بی ایس کر کے عملی میدان میں جا رہے ہیں۔

چوہدری یاسین نے زور دیا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی نظام کے ذریعے اقتدار حاصل کیا اور ایک مضبوط پاکستان ہی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ کے سات حلقوں میں انتخابات نہ ہونا انتہائی اہم معاملہ ہے اور وہاں کے عوام اپنے ووٹ کا حق چاہتے ہیں۔ ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچاس سال میں مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس کی حکومتیں رہیں مگر بنیادی مسائل برقرار رہے، جبکہ موجودہ نظام کی خرابی کا حل سیاسی نظام کو مضبوط بنانے میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وثوق سے کہتے ہیں کہ موجودہ کمپنی زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آ رہی۔

سابق صدر سردار محمد یعقوب خان کا موقف

پریس کانفرنس کے اختتام پر سابق صدر سردار محمد یعقوب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پونچھ پر خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرے اور جلد سے جلد پونچھ اور سدھنوتی میں امن بحال کر کے وہاں شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔

Pakistan SCO Summit 2026