سندھ طاس معاہدہ برقرار، پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دی ہیگ کی عدالتِ ثالثی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’التوا‘ میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دی ہیگ میں قائم عدالتِ ثالثی نے سندھ طاس کے تنازعے میں آج فریقین کو سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت سے متعلق ایوارڈ اور عبوری اقدامات سے متعلق فیصلہ جاری کردیا ہے۔ تاہم عدالت کی جانب سے ابھی تک ایوارڈ اور فیصلے کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں، جن کی آئندہ ایک ہفتے کے دوران اشاعت متوقع ہے۔

پاکستان کے مطابق عدالتِ ثالثی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے جس کے تحت نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدے کو ’ابeyance‘ یعنی التوا میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ بھارت کا یہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ اجازت نہیں، لہٰذا معاہدہ نہ تو ختم ہوا ہے اور نہ ہی اس کے نفاذ کو معطل کیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا ہوگی، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔

فیصلے کے مطابق بھارت ان منصوبوں سے متعلق معاہدے میں موجود تنازع کے حل کے طریقہ کار کی پابندی کا بھی ذمہ دار ہے۔

پاکستان نے عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں دیے گئے اس واضح اور متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ معاہدے کے تسلسل اور دونوں ممالک پر عائد قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔

رتل ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بھی عبوری اقدامات

دی ہیگ کی عدالتِ ثالثی نے سندھ طاس تنازعے میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ (RHEP) سے متعلق بھی عبوری اقدامات عائد کیے ہیں۔

عدالت نے متفقہ طور پر بھارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ رتل ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کو مخصوص سطحوں سے اوپر کنکریٹ کرنے کا عمل روک دے۔ یہ پابندی نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہے گی۔

نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کی موجودہ توقع جولائی 2027 میں کی جارہی ہے۔

عدالت نے اس کے علاوہ رتل ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کی پابندی بھی عائد کی ہے، جو نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک برقرار رہے گی۔

پاکستان نے عدالت کی جانب سے عبوری اقدامات کی ضرورت تسلیم کیے جانے اور بھارت پر عائد کی گئی ان پابندیوں کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان کا آئندہ کا لائحہ عمل

حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے مکمل ایوارڈ اور فیصلے کی اشاعت کے بعد ان کی تفصیلات کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لے گی۔

پاکستان کے مطابق مکمل فیصلے کے قانونی اور عملی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد اس امر پر غور کیا جائے گا کہ یہ فیصلے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت دوبارہ بامعنی رابطے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی پیش رفت کا بنیادی مقصد ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا جو دونوں فریقوں کے سندھ طاس معاہدے کے تحت عائد پابند اور قانونی طور پر لازم ذمہ داریوں کی عکاسی کرے۔

پاکستان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد فریقین کے درمیان معاہدے کے تحت طے شدہ نظام کے مطابق دوبارہ مشاورت اور رابطے کا راستہ کھلے گا۔

پس منظر

سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے سندھ کے نظام کے دریاؤں کے پانی کے استعمال اور تقسیم کے حوالے سے دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں۔

حالیہ عرصے میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’التوا‘ میں رکھنے کے اعلان کے بعد اس کی قانونی حیثیت اور مغربی دریاؤں پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے تنازع مزید شدت اختیار کرگیا تھا۔

پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک باقاعدہ اور پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔

دی ہیگ کی عدالتِ ثالثی کی جانب سے اب اس امر کی متفقہ توثیق کہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، پاکستان کے مؤقف کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

عدالت کے مکمل ایوارڈ اور عبوری اقدامات کے تفصیلی فیصلے کی اشاعت کے بعد تنازع کے قانونی اور عملی پہلو مزید واضح ہوں گ

پاکستان کا مؤقف مزید مضبوط

پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طویل عرصے سے پانی کے تنازعات کے حل کے لیے بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کی جانب سے معاہدے کو ’’التوا‘‘ میں رکھنے کے اعلان نے اس معاہدے کے مستقبل اور دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے نظام کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کیے تھے۔

دی ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے اب یہ قرار دیا جانا کہ بھارت کا یکطرفہ اقدام معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔۔

یہ کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، پاکستان کے مؤقف کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے مکمل ایوارڈ اور فیصلے کا تفصیلی مطالعہ کرے گی اس کے بعد اس امر کا تعین کیا جائے گا کہ یہ فیصلے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے تحت قانونی اور ادارہ جاتی رابطے کی بحالی میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

حکومتِ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی ذمہ داریاں قانونی طور پر پابند ہیں

مستقبل میں کسی بھی پیش رفت کو انہی قانونی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔

Pakistan SCO Summit 2026