اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں کیں، ان کے گھر تک گیا اور کہا کہ ماں جائیں بات کریں، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔
سابق وزیراعظم فیصل راٹھور کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پہلے پاپولر وزیراعظم کہا گیا اور بعد میں ’’قاتل وزیراعظم‘‘ کہا گیا، میرا ضمیر مطمئن ہے، میں نے جانیں بچانے کی پوری کوشش کی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ 1977 سے 2026 تک آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ کی حکومتیں رہیں، تقریباً 50 سال کے عرصے میں پیپلز پارٹی کو تقریبا ساڑھے 12 سال حکومت ملی اور پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے ریاست میں تعمیر و ترقی کے بڑے منصوبے مکمل کئے۔
انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر کے بجٹ کو دس گنا بڑھانے کی بات کی تھی، ہم نے کہا تھا کہ دس گنا نہیں تو کم از کم بجٹ دگنا ہی کر دیں، اب مسلم لیگ ن کی حکومت ہے، آزاد کشمیر کا بجٹ بڑھایا جائے اور ترقیاتی منصوبے دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت سے پونچھ پیکیج کا مطالبہ کرتے ہیں، پونچھ کے سات حلقوں میں انتخابات نہیں ہو سکے، وہاں کے عوام چاہتے ہیں کہ انتخابات ہوں اور وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: واشک میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت سے پونچھ پیکیج کی ڈیمانڈ کی لیکن ہمیں نہیں دیا گیا، اب مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن اپنے وعدوں پر عمل کرے اور آزاد کشمیر کے بجٹ میں اضافہ کرے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر کو 159 ارب روپے کی ویری ایبل گرانٹ میں سے 9 ارب روپے بھی آخری وقت تک نہیں مل سکے، اس معاملے پر مرکزی قیادت سے بھی بات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا شکر گزار ہوں کہ میرے حلقے میں دانش اسکول دیا گیا، اوورسیز انویسٹمنٹ کانفرنس میں بھی وزیراعظم پاکستان سے اپنے حلقے کے لیے تعاون کی درخواست کی تھی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مشکل حالات میں انتخابات کروائے، تین مراحل میں انتخابات کے باوجود پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی، اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے 14 نشستیں حاصل کیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی پی پی آزاد کشمیر کی اہم پریس کانفرنس! 7 ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی حساب اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بڑا موقف
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں سب سے نمایاں تھا، اگر مہاجرین کی نشستیں نصف کردی جاتیں تو آج یہ بحران پیدا نہ ہوتا۔
اس وقت مسلم لیگ ن اس قانون سازی کیلئے تیار نہیں تھی، اب اگر اس حوالے سے بات کی جا رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ پہلی حکومت کو اس قانون سازی کا اختیار کیوں نہیں تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے موجودہ صورتحال میں ریاست کے بجائے سیاست کو ترجیح دی اور مہاجرین کی نشستوں پر سیاست کی، دس نشستیں مسلم لیگ ن کی جیب میں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ریاستی مفاد میں مشکل فیصلے کیے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کی، ہم نے حقوق کی جنگ لڑی اور ایک نشست کے مقابلے میں دوسری نشست کھڑی کرنے کی سیاست نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا پاکستان کے ساتھ رشتہ انتہائی حساس ہے، اس رشتے میں کسی قسم کی دراڑ برداشت نہیں کریں گے، آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے اور ریاست کے حالات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔




