لارڈز ٹیسٹ میں شکست،محمد رضوان اور امام الحق کو واپس بھیجنے کا فیصلہ

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے ہنگامی بنیادوں پر وکٹ کیپر محمد رضوان اور امام الحق کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔

لارڈز ٹیسٹ کے چوتھے دن انگلینڈ کے ہاتھوں 194 رنز کی شکست اور3 ٹیسٹ پر مشتمل سیریز میں ناکامی کے بعد لندن میں پاکستان ٹیم مینجمنٹ کی ہنگامی بنیادوں پر میٹنگ منعقد ہوئی، جس کے بعد پاکستان کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر بڑے فیصلوں کی بازگشت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محمد عباس کی لارڈز ٹیسٹ میں 5 وکٹیں ، 7ویں پاکستانی بولر بن گئے

وکٹ کیپر محمد رضوان جو لیڈز ٹیسٹ کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں بھی غیر ذمہ دارانہ انداز میں اپنی وکٹ گنوا کر پویلین لوٹے ،ان کے ساتھ بورڈ نے اوپنر امام الحق کو ہنگامی بنیادوں پر پاکستان روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امام الحق کی انجری پر بورڈ نے تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے۔

برمنگھم میں 9 ستمبر سے شروع ہونیوالے تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر سیریز جیت لی

ذرائع کے مطابق صائم ایوب اور عرفات منہاس کو برمنگھم ٹیسٹ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو 16 برس بعد لارڈز کے میدان میں شکست ہوئی اور انگلینڈ کو 3 میچز کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لارڈز ٹیسٹ: امام الحق پر جعلی انجری اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا سنگین الزام

یاد رہے کہ سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر امام الحق پر ‘جعلی انجری’ کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے رویے پر شدید تنقید کی تھی۔

محمد وسیم کا کہنا ہے کہ معمولی کھنچاؤ کی بنیاد پر میدان سے باہر جانے کی یہ ‘ڈرامے بازی’ پہلے بھی ہو چکی ہے، جس کے بعد اب کرکٹ حلقوں میں اس معاملے پر شدید بحث اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔