بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری کو بڑا دھچکا،ایئر لائنز کے اہم منصوبے متاثر

ایک سال قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے بڑھتے ہوئے ہوا بازی کے شعبے کو ایک ایسے ابھرتے ہوئے بھارت کی علامت قرار دیا تھا جو ’بلندیاں چھونے‘ کے لیے تیار ہے، تاہم آج بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو حفاظتی اور ریگولیٹری مسائل سمیت کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔

دنیا کی تیسری بڑی ڈومیسٹک ایوی ایشن مارکیٹ بھارت میں 2 بڑی ایئر لائنز ایئر انڈیا اور انڈیگو سے متعلق بحرانوں نے حفاظتی انتظامات اور ریگولیٹری نظام کی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایئر انڈیا کی پرواز اچانک 300فٹ نیچے آ گئی، پائلٹ کے چرسی ہونے کی تصدیق

جغرافیائی سیاسی بحرانوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث ایئر لائنز کا منافع متاثر ہوا اور انہیں اپنے توسیعی منصوبوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔

ایئر انڈیا اور انڈیگو مل کر بھارت کی ملکی پروازوں کی 10 میں سے قریباً 9 نشستوں پر قابض ہیں، جس سے مارکیٹ میں مسابقت کی کمی بھی نمایاں ہوتی ہے۔

معروف عالمی ماہر مارٹن کنسلٹنگ کے مارک مارٹن کے مطابق 2025 اور 2026 بھارت کے لیے عالمی ساکھ اور اعتبار کے لحاظ سے انتہائی مشکل سال رہے ہیں۔

ہوا بازی کے شعبے کو حالیہ دھچکا رواں ماہ اس وقت لگا جب تھائی لینڈ کے فوکٹ جزیرے سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز دورانِ پرواز اچانک 300 فٹ نیچے آ گئی جس کے نتیجے میں 24 مسافر زخمی ہوئے۔

واقعے کے بعد اس وقت مزید سوالات اٹھے جب رپورٹس سامنے آئیں کہ طیارے کے کپتان نے لینڈنگ کے بعد چرس کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت دیا تھا۔

اس کے بعد ایئر انڈیا نے تمام پائلٹس کی ایک مرتبہ منشیات کی اسکریننگ کا حکم دیا۔ واقعے کی تحقیقات کے ابتدائی نتائج آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہیں۔

کئی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایئر انڈیا سے متعلق وسیع تر مسائل کا حصہ ہے، جو گزشتہ سال لندن جانے والی بوئنگ 787 ڈریم لائنر پرواز کے حادثے کے بعد سے مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس حادثے میں 241 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایئر انڈیا کے ایک الگ آڈٹ میں قریباً 100 حفاظتی خامیوں کی نشاندہی ہوئی، جن میں 7 ایسی خلاف ورزیاں بھی شامل تھیں جن پر ’فوری اصلاحی کارروائی‘ کی ضرورت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان

پارلیمانی پینل کی رپورٹ کے مطابق بوئنگ 787 اور 777 کے پائلٹس کے لیے بار بار تربیت میں خامیاں بھی سامنے آئیں۔

ایئر انڈیا کے سابق ایئرلائن آپریشنز چیف شکتی لمبا نے کمپنی میں حفاظتی کلچر کو ’کمزور‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہر کوئی صرف حفاظت کی بات کر رہا ہے، لیکن صرف زبانی طور پر حفاظت کی اہمیت تسلیم کرنے سے حفاظتی کلچر تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔

ایئر انڈیا کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر جتیندر بھارگوا نے مبینہ منشیات کے معاملے پر انتظامی نگرانی سے متعلق سوالات اٹھائے۔ان کے مطابق پائلٹس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کا کوئی ساتھی منشیات استعمال کر رہا ہو۔

حفاظتی خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارتی ایئر لائنز کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان گزشتہ سال کشیدگی بڑھنے کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایئر لائنز کو طویل اور مہنگے فضائی راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتوں نے بھی ایئر لائنز پر دباؤ بڑھایا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں مالی سال بھارتی ایئر لائنز کوتقریباً 4 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔ ایئر انڈیا کا نقصان گزشتہ مالی سال میں دگنا سے زیادہ ہو کر 2.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ انڈیگو کو مسلسل دو سہ ماہیوں میں خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مالی دباؤ کے باعث ایئر لائنز کے توسیعی منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انڈیگو نے گزشتہ ماہ اپنی وائیڈ باڈی پروازوں کا آپریشن بند کر دیا، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا 500 تک طیاروں کی ڈیلیوری مؤخر کرنے پر غور کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت نے سلال ڈیم کے دروازے کھول دئیے، چناب میں سیلاب کا الرٹ

یہ صورتحال اس شعبے کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے جسے طویل عرصے سے بھارت کی کامیاب ترین صنعتوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

بھارتی ایئر لائنز نے گزشتہ سال تقریباً 167 ملین مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی، جو ایک دہائی قبل کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ تعداد ہے۔

گزشتہ 10 برسوں میں بھارت میں 70 سے زیادہ ہوائی اڈے شامل کیے گئے جبکہ ایئر لائنز نے قریباً 1500 طیاروں کے آرڈر دیئے۔