ایئر انڈیا کی پھوکٹ سے نئی دہلی جانے والی پرواز کے پائلٹ نے چرس پی رکھی تھی اور ڈرگ ٹیسٹ سے اس کی تصدیق بھی ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے اسی پائلٹ کی پرواز اچانک 300 فٹ نیچے آگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع
اس سے قبل اسی روز انڈیا کی وزارتِ شہری ہوا بازی نے اس واقعے کے سلسلے میں ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کیمبل ولسن کو طلب کیا تھا۔ یہ واقعہ ایک ایئربس اے 320 نیو میں پیش آیا تھا۔
ایئر انڈیا اور وزارتِ شہری ہوا بازی نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا تاہم کیمبل ولسن نے نیوز چینلز کو بتایا کہ ایئرلائن نے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے وزارت کو آگاہ کر دیا ہے۔
ایئر انڈیا کے سی ای او کی طلبی اس واقعے کے چند روز بعد اُس وقت ہوئی جب اںڈین حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کیں۔ اس واقعے میں 13 مسافر اور عملے کے 4 ارکان زخمی ہوئے تھے۔
انڈین حکومت کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ کے سیاحتی شہر پھوکٹ سے آنے والی یہ پرواز جب انڈیا کی مشرقی ریاست اوڈیشہ کے اوپر پرواز کر رہی تھی تو اچانک اور مختصر وقت کے لیے اس کی بلندی میں کمی واقع ہوئی۔
اس جہاز میں 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے اور یہ بحفاظت انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہا۔
اتوار کو وزارتِ شہری ہوا بازی نے بتایا تھا کہ پائلٹ کے ابتدائی ٹیسٹ میں نفسیاتی اثرات پیدا کرنے والے مادوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا اور اس کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ ضروری قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدہ پر بھارت کا ردعمل آگیا
ایئر انڈیا نے موقف اپنایا کہ اسے پائلٹ کے اس ٹیسٹ کے نتیجے کے بارے میں تاحال آگاہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایئر انڈیا کی اکثریتی ملکیت ملک کے بڑے کاروباری ’ٹاٹا گروپ‘ کے پاس ہے جبکہ 25 فیصد کے قریب حصص سنگاپور ایئرلائنز کے پاس ہیں۔




