لاہور: پاکستان کی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے بند ہونے کے باعث بھارت کی بڑی ایئرلائنز کو شدید مالی اور آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ طویل متبادل فضائی روٹس کے استعمال سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئرلائنز کی ہفتہ وار تقریباً 800 پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔ شمالی بھارت سے مغربی ممالک کے لیے جانے والی تقریباً 400 ہفتہ وار پروازیں معمول کے مطابق پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں، جنہیں اب متبادل راستوں سے آپریٹ کیا جارہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا علاج، بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے ،طارق فضل چوہدری
دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ہفتہ وار تقریباً 640 پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں امریکا، برطانیہ، فرینکفرٹ، استنبول اور الماتی جانے والی پروازیں شامل ہیں۔
پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد 24 اپریل 2025 کو بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق پابندی 24 ستمبر 2026 تک برقرار ہے اور اس میں ہر ماہ توسیع کی جاتی رہی ہے۔
فضائی حدود کی بندش کے بعد بھارتی ایئرلائنز نے ایران اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود کے ذریعے متبادل روٹس اختیار کیے ہیں۔ اس کے باعث برطانیہ اور یورپ جانے والی پروازوں کے دورانیے میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے جبکہ امریکا اور کینیڈا جانے والی پروازوں میں تقریباً تین گھنٹے تک اضافہ ہوا ہے۔
طویل روٹس کے نتیجے میں ایئرلائنز کو اضافی ایندھن، لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ فیس کے علاوہ فضائی عملے کی اضافی ڈیوٹی کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ بعض پروازوں کو ویانا میں ری فیولنگ کے لیے اضافی قیام بھی کرنا پڑتا ہے۔
بھارت کی بڑی ایئرلائنز، جن میں ایئر انڈیا، انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ شامل ہیں، اس صورتحال سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں ایئر انڈیا کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی ایئرلائن قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن :مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی منظور، حتمی فہرست جاری
بھارتی ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو بھارتی ایئرلائنز کو رواں سال مزید تقریباً 600 ملین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔ پہلے ہی مجموعی مالی نقصان دو ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے متبادل فضائی راستوں کے استعمال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جس سے آپریشنل اخراجات اور سفری دورانیہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب بھارتی فضائی حدود کی بندش سے پاکستانی ایئرلائنز نسبتاً کم متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان کی صرف چھ پروازیں ایسی تھیں جو ملائیشیا یا تھائی لینڈ جاتے ہوئے بھارتی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں، تاہم انہیں اب متبادل راستوں سے آپریٹ کیا جارہا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارتی ایئرلائنز کے ساتھ بھارتی فوجی اور کارگو طیاروں کے لیے بھی پاکستانی فضائی حدود کی پابندی ستمبر 2026 تک برقرار ہے، جس کے لیے باقاعدہ نوٹم جاری کیا جاچکا ہے۔




