مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے آخری خطاب میں بیرسٹرسید افتخار علی گیلانی کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔
فیصل ممتاز نے اپنے خطاب میں کہا کہیہ لمحہ آزمائش کا آغاز ہے ، نومنتخب قائد ایوان کے والدین سے میرے والدین کا بہت قریبی تعلق رہا انکا انتخاب ریاست کیلئے بہتر ثابت ہوگا۔ یہ انتقال اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری کا انتقال ہے ۔
فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے خطاب میںکہاقتدار ختم ہوچکا لیکن خدمت کا عہد آج بھی ہے ، عوامی حقوق کی جنگ لڑتا رہوں گا ۔ مجھے جب ذمہ داری ملی تو یقین تھا کہ بہتری لا سکوں گا۔ جب حکومت سنبھالی تو نظام بیٹھ چکا تھا
مزید یہ بھی پڑھیں:امید ہے وزیراعظم گیلانی گڈگورننس کیلئے موثر کردار ادا کرینگے،پیر علی رضابخاری
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اقتدار سنبھالتے ہی عوامی مسائل حل کی طرف موثر اقدامات اٹھائے مگر اچانک ریاست میں بے چینی اور ہجانی کیفیت پیدا ہوگئی ، سرکاری گاڑی تک چلانا، سیاستدانوں کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ہم نے ذمہ داری سنبھالی اور عوام میں نکلے ۔ ایک ایسے وقت میں جب راولاکوٹ میں تمام سیاسی جماعتیں ملکر بھی پانچ سو بندے اکھٹے نہیں سکیں اسوقت ذمہ داری سنبھالی اورآج جاتے ہوئے دل خوش ہےکہ حالات بہت بہتر ہیں ۔
سابق وزیراعظم نے کہاکہ آخری دم تک انسانی جانوں کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔ میری جماعت کے مہاجرین نشستوں بارے تحفظات تھے کہ انہیں متناسب نمائندگی دی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اگر میں چاہتا تو اسمبلی میں قراردار لیکر سیاسی فائدہ لے سکتاتھا لیکن ہم نے بیانیے اور سیاست کے بجائے ریاست کے مفاد کو ترجیح دی ۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے نظام میں کمزوریاں اورکوتاہیاں ہیں لیکن جنجال ہل سے لیکر موجودہ صورتحال تک جو ترقی ہوئی اسی نظام اور ایوان سے ہوئی ہیں۔ غلطی ہوئی ہے تو اسکو ٹھیک ہم سب کریں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل کے شکرگزار، پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا، مریم نواز جیسی تبدیلی لائیں گے،بیرسٹر افتخار گیلانی
فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم نے احتجاج کرنیوالوں کو کہاتھا کہ اگر مقبولیت ہے تو الیکشن کے ذریعے اسمبلی میں آئیں ۔
انہوں نے کہاکہ جب میں وزیراعظم منتخب ہواتو پولیس ہڑتال کیلئے تیار بیٹھی تھی،بیورو کریسی دل چھوڑ چکی تھی اور نظام بیٹھ چکا تھا لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے کوشش کی اور چیزیں بہتر ہوئیں ۔
انہوں نے کہاکہ سات ماہ حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی ، ہم نے اپنے مختصر عرصہ اقتدار میں ہر اس شعبے کو ایڈریس کیا جس کو کیا جاسکتاتھا اور اس کے نتائج بھی آئے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کے انتظار میں انتظار نہیں کروانا ۔ ہمارے حقوق پاکستان کے صوبوں سے زیادہ ہیں ، ہم تین روپے بجلی اور سستا آٹاسے مستفید ہورہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ جو نوجوان احتجاج کرنیوالوں کے ساتھ کھڑے ہیں انکو نہیں معلوم کے انکا مستقبل کیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ نظام سے ہی بہتری آ سکتی ہے ،امید ہے کہ نومتنخب حکومت اپوزیشن کو دیوار سے نہیں لگائے گی۔




