گھریلو ملازمین کی بھرتیاں: پاک،سعودی عرب معاہدے کا امکان

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لیبر تعاون اور افرادی قوت کی ترسیل کو مزید منظم بنانے کیلئے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پاکستانی ڈومیسٹک ورکرز (گھریلو ملازمین) کی بھرتی کے حوالے سے ایک خصوصی اور منظم معاہدے کی تجویز پر گہرائی سے غور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب نے مملکتِ سعودی عرب میں پاکستانی گھریلو ملازمین (ڈومیسٹک ورکرز) کی روزگار کیلئے روانگی، بھرتی کے عمل کو شفاف بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ایک خصوصی اور جامع دوطرفہ معاہدے پر کام مکمل کر لیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپیکر،ڈپٹی سپیکر کا انتخاب، پیپلزپارٹی کو شکست،طارق فاروق ،حامد رضا قادری نے حلف اٹھا لیا ،لطیف اکبر گھر روانہ

اس سلسلے میں سعودی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی اور پاکستانی حکام کے درمیان اہم اور پیش رفت سے بھرپور مذاکرات ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مخصوص فریم ورک کا مقصد پاکستان سے سعودی عرب جانے والے گھریلو ملازمین کی بھرتی کے عمل کو شفاف بنانا، ان کے قانونی حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اہم پیشرفت جنیوا میں منعقدہ عالمی لیبر کانفرنس کے موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق گھریلو ملازمین کے لیے یہ خصوصی معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طویل العصر لیبر تعلقات اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔

ماہرین کے مطابق گھریلو ملازمین کے لیے یہ خصوصی معاہدہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طویل العصر لیبر تعلقات اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔

متوقع ہے کہ اس مجوزہ معاہدے پر حتمی دستخط آئندہ اعلیٰ سطحی سعودی وفد کے دورہِ پاکستان کے دوران کیے جائیں گے، جس کے لیے قانونی اور انتظامی تیاریوں کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ اور سیکرٹری نے سعودی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عدالتی فیصلے پر عمل ہوااور 16 ستمبر کو عدالت جو فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے: رانا ثنااللہ

ان ملاقاتوں کے دوران سعودی حکام نے بالخصوص گھریلو ملازمین کے لیے ایک الگ اور مخصوص معاہدہ تشکیل دینے کی تجاویز پیش کی تھیں۔

یہ نیا مجوزہ معاہدہ سال 2021 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محنت کشوں کی عمومی بھرتی کیلئے سائن لئے گئے۔

‘جنرل ایگریمنٹ کا ہی تسلسل اور توسیعی شکل ہے تاہم گزشتہ معاہدے کی برعکس یہ نیا فریم ورک صرف اور صرف ڈومیسٹک ورکرز کے حقوق، روزگار کی شرائط، قانونی تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود پر مرکوز ہوگا۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر قانونی ذرائع کا خاتمہ، محفوظ اور قانون کے مطابق ہجرت کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ نے رولز آف بزنس 1973 کی متعلقہ شقوں کے تحت اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ منظوری کے لیے معاملہ وفاقی کابینہ کو ارسال کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری ملنے کے بعد، سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کے عنقریب متوقع دورۂ پاکستان کے موقع پر اس تاریخی معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے جائیں گے۔