وزیراعظم یوتھ لون اسکیم، وزیراعظم آزادکشمیرکے اعلان پرعملدرآمد نہ ہوسکا

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے نوجوانوں کیلئے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کے متعدد اعلانات کئے گئے

جن میں وزیراعظم یوتھ لون اسکیم بھی شامل تھی۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرکے انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی طور پر خودمختار بنانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔

حکومت کی جانب سے یوتھ لون اسکیم کے اعلان کے بعد آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں نوجوانوں نے اس پروگرام سے امیدیں وابستہ کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرائیں۔

نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے انہیں اپنے کاروبار شروع کرنے اور معاشی مشکلات پر قابو پانے کا ایک مؤثر راستہ نظر آیا، تاہم عملی طور پر کئی درخواست گزار اس اسکیم کے اگلے مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم : جاگراں ویلی سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمد،تحقیقات شروع

متعدد نوجوانوں کے مطابق انہوں نے یوتھ لون اسکیم کے تحت درخواست جمع کروانے کیلئے مطلوبہ فارم اور دیگر کارروائی مکمل کی اور اس ضمن میں فیس بھی ادا کی۔

تاہم فیس جمع کروانے کے باوجود انہیں قرض کے حصول کے لیے باقاعدہ پراسس کا حصہ نہیں بنایا گیا، جس کے باعث درخواست گزاروں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔

متاثرہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کے اعلان پر اعتماد کرتے ہوئے وقت اور رقم صرف کی لیکن درخواست جمع کروانے اور فیس کی ادائیگی کے بعد انہیں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کی درخواست کس مرحلے پر ہے۔

اس کی جانچ پڑتال کب مکمل ہوگی اور قرض کی فراہمی کے لیے اگلا مرحلہ کب شروع کیا جائے گا۔

نوجوانوں کے مطابق اگر کسی درخواست میں کمی یا کوئی تکنیکی مسئلہ موجود تھا تو انہیں بروقت آگاہ کیا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنی درخواست کی اصلاح کرسکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف درخواستیں وصول کرنا اور فیس جمع کروانا کافی نہیں بلکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ درخواست گزاروں کو مکمل اور شفاف طریقہ کار، میرٹ اور قرض کی فراہمی کے مراحل سے آگاہ کیا جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی: مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن گئی، حلف برداری مکمل

متاثرہ نوجوانوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کے حوالے سے موجود ابہام کو فوری طور پر دور کیا جائے اور بتایا جائے کہ درخواستیں جمع کروانے والے نوجوانوں کو قرض کی فراہمی کے عمل میں کب شامل کیا جائے گا۔

نوجوانوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جن درخواست گزاروں نے فیس ادا کی ہے، ان کی درخواستوں کا ریکارڈ شفاف انداز میں مرتب کرکے انہیں درخواست کی موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جائے۔

اس کے علاوہ قرضوں کی منظوری کے لیے واضح معیار، میرٹ، ٹائم فریم اور انتخاب کے طریقہ کار کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے یقینی اور شکایات کا خاتمہ ہوسکے۔

یوتھ لون اسکیم سے وابستہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے، تاہم اس اعلان کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر اور شفاف نظام ضروری ہے۔

ان کے مطابق اگر اسکیم کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے تو آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان اپنے کاروبار شروع کرکے نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکتے ہیں بلکہ خطے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والی شکایات کا کس حد تک نوٹس لیتی ہے ۔۔

وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت درخواستیں جمع کروانے والے امیدواروں کیلئے آئندہ کا طریقہ کار، درخواستوں کی حیثیت اور قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے کیا واضح لائحہ عمل سامنے لاتی ہے۔