بیرسٹر افتخار گیلانی… میراثِ خدمت سے قیادت تک

تحریر: محمد شبیر اعوان

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست محض اقتدار کے حصول کا نام نہیں، یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کے پس منظر میں ایک طویل تاریخ، بے شمار قربانیاں، قومی وابستگی اور عوامی خدمت کی روایت موجود ہے۔ اس خطے میں وہی سیاسی شخصیات دیرپا اہمیت اختیار کرتی ہیں جو عہدے کو منزل نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہیں، جو اپنی قابلیت کو ذاتی مفاد کے بجائے ریاستی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور جو مشکل حالات میں بھی اپنے نظریے، جماعت اور وطن سے وابستگی برقرار رکھتی ہیں۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ محض ایک سیاسی امیدوار نہیں بلکہ ایک ایسے خاندان کے فرزند ہیں جس نے سیاست اور عوامی خدمت میں اپنی روایات قائم کیں، ایک ایسے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے اپنی وابستگی کو مشکل ادوار میں بھی برقرار رکھا، ایک قانون دان ہیں جنہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم دنیا کے ایک تاریخی ادارے سے حاصل کی اور ایک سابق وزیر ہیں جن کے دور میں میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات کو اہمیت دی گئی۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کی علمی زندگی کا ایک قابلِ فخر پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بیرسٹری لنکنز اِن، لندن سے کی، وہی تاریخی ادارہ جہاں سے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی بیرسٹری کی تھی۔ قائداعظم کے لیے قانون محض ایک پیشہ نہیں تھا بلکہ یہی قانونی بصیرت بعد میں برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی اور آئینی حقوق کی جدوجہد کا ایک مضبوط ذریعہ بنی۔ اسی تاریخی ادارے سے بیرسٹری حاصل کرنا بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے یقیناً ایک منفرد علمی نسبت ہے۔ پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کے ہمراہ وکالت کی عملی مشق کی، جس سے انہیں نہ صرف قانونی معاملات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا بلکہ ملک کے اعلیٰ آئینی، پارلیمانی اور سیاسی ماحول سے بھی عملی شناسائی حاصل ہوئی۔ یوں ان کی شخصیت میں قانون کی اعلیٰ تعلیم، عملی قانونی تجربہ، پارلیمانی شعور، سیاسی وابستگی اور ریاستی معاملات کا تجربہ ایک ساتھ جمع ہوتا ہے۔

کسی بھی سیاسی شخصیت کی اصل پہچان اس کے تعلیمی اسناد یا عہدوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اس نے اپنی صلاحیتوں کو عوامی مفاد کے لیے کس حد تک استعمال کیا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کی سیاسی زندگی کا ایک اہم حوالہ ان کا دورِ وزارتِ تعلیم ہے۔ 2016 سے 2021 کے دوران ان کے دور وزارت میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے بھرتیوں کے نظام کو فعال بنانے کی کوشش کو ان کے حامی آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام میں میرٹ اور شفافیت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں۔ اس اقدام کی اصل روح یہ تھی کہ سرکاری ملازمت کسی سیاسی سفارش، ذاتی تعلق یا بااثر شخصیت تک رسائی کا نتیجہ نہ بنے بلکہ امیدوار کی قابلیت، محنت اور اہلیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔

ایک ایسے خطے میں جہاں ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے مواقع کے منتظر رہتے ہیں، میرٹ پر مبنی بھرتی کا نظام محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب ایک نوجوان یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے پاس کسی طاقتور شخصیت کی سفارش نہیں مگر اس کی قابلیت اسے آگے لے جا سکتی ہے تو اس کا ریاستی نظام پر اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ یہی گڈ گورننس کی اصل روح ہے۔ گڈ گورننس صرف سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کا نام نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کا نام ہے جس میں عام شہری کو انصاف، میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع میسر ہوں۔

NTS کے ذریعے بھرتی کے نظام نے ایسے نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کیے جن کے پاس سیاسی سفارش یا بااثر حلقوں تک رسائی نہیں تھی۔ آج محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دینے والے متعدد افراد کے حوالے سے ان کے حامی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں میرٹ پر نظام کا حصہ بننے کا موقع اسی اصلاحی عمل کے ذریعے ملا۔ اگر ایک حکومتی فیصلہ اپنی مدتِ اقتدار ختم ہونے کے بعد بھی لوگوں کی زندگیوں میں مثبت اثر پیدا کرتا رہے تو یہ اس فیصلے کی اصل اہمیت ہوتی ہے۔ یہی وہ ادارہ جاتی سوچ ہے جس کی آزاد کشمیر کو آج بھی ضرورت ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدہ : پاکستان کی اسٹریٹجک، سفارتی کامیابی،امریکی جریدے کا اعتراف

بیرسٹر افتخار گیلانی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی سیاسی اور عوامی خدمات کا پس منظر موجود ہے۔ ایک قربانی دینے والے خاندان کا بیٹا ہونا بلاشبہ اعزاز ہے، لیکن اس سے بڑھ کر ایک ذمہ داری بھی ہے۔ خاندان کی سیاسی میراث انسان کو ایک راستہ دکھا سکتی ہے، مگر اس راستے کو آگے بڑھانا نئی نسل کی اپنی صلاحیت، کردار اور خدمت سے ممکن ہوتا ہے۔ ان کے حامیوں کے مطابق بیرسٹر افتخار گیلانی نے اسی خاندانی روایت کو اپنی سیاسی زندگی میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے لیے سیاست محض ذاتی کامیابی یا اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت اور ریاستی مفاد کی ذمہ داری ہے۔

ان کی پاکستان مسلم لیگ (ن) سے سیاسی وابستگی بھی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ سیاست میں وابستگی کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اقتدار ساتھ نہ ہو، حالات سازگار نہ ہوں اور سیاسی راستہ آسان نہ ہو۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کے حامی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی کو محض اقتدار کے موسم تک محدود نہیں رکھا بلکہ مشکل ادوار میں بھی جماعتی وابستگی اور قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہی سیاسی استقامت کسی بھی سیاسی کارکن کے کردار کی بنیاد بنتی ہے۔

ایک محبِ وطن کشمیری کی حیثیت سے بیرسٹر افتخار گیلانی کے سیاسی سفر کو کشمیر کے وسیع تر قومی تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ کشمیر کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ اس خطے کے لوگوں نے آزادی، شناخت اور حقِ خودارادیت کے لیے نسلوں تک قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کا تعلق محض سیاسی نعرے کا نہیں بلکہ تاریخی، نظریاتی اور جذباتی وابستگی کا تعلق ہے۔ ایسے ماحول میں سیاست کرنے والے ہر شخص پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو ریاستی مفاد، قومی وقار اور عوامی فلاح سے جوڑے۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کے حامی ان کی شخصیت کو اسی قومی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

ان کی زندگی کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ بیرونِ ملک سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کے پاس ایک کامیاب بین الاقوامی یا ملکی قانونی کیریئر بنانے کے مواقع موجود تھے، مگر انہوں نے اپنی تعلیم، تجربے اور صلاحیتوں کو اپنی ریاست اور اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کو ترجیح دی۔ اپنی مٹی کی طرف واپس آنا اور اپنی صلاحیتیں اپنے لوگوں کے لیے وقف کرنا ایک ایسے شخص کے اندر موجود وطن سے تعلق اور عوامی خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو محض ذاتی کامیابی سے آگے سوچتا ہو۔

آج بیرسٹر افتخار گیلانی پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کی ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے امیدوار ہیں۔ یہ نشست اپنے تصور کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کا مقصد قانون ساز ادارے میں ایسے افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے جو اپنے شعبے میں علمی، قانونی، انتظامی یا پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہوں۔ اگر ٹیکنوکریٹ نشست کی اصل روح کو سامنے رکھا جائے تو امیدوار کا انتخاب صرف سیاسی وابستگی پر نہیں بلکہ اس کی تعلیم، تجربے، قابلیت اور ریاستی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت پر ہونا چاہیے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کے معاملے میں قانون کی اعلیٰ تعلیم، لنکنز اِن سے بیرسٹری، پاکستان واپسی کے بعد وسیم سجاد کے ہمراہ عملی قانونی تجربہ، سابقہ وزارتِ تعلیم، سیاسی تجربہ، میرٹ اور ادارہ جاتی اصلاحات کا پس منظر انہیں ایک ایسے امیدوار کے طور پر سامنے لاتا ہے جس کی صلاحیتوں سے قانون ساز ادارہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ٹیکنوکریٹ نشست دراصل سیاست میں قابلیت اور تخصص کو شامل کرنے کا ایک راستہ ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں کسی شخص کی پیشہ ورانہ زندگی اور ریاستی تجربہ اہمیت اختیار کرتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کی مستقبل کی قیادت کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف انتخاب جیت لینا ہی کسی شخص کو بڑے ریاستی منصب کا اہل بنا دیتا ہے، یا پھر تعلیم، تجربہ، انتظامی صلاحیت، قانون کی سمجھ، سیاسی برداشت، قومی سوچ اور عوامی خدمت بھی اس معیار کا حصہ ہونی چاہیے؟ اگر ہم واقعی گڈ گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات اور میرٹ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ایسے افراد کو آگے لانے کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا جن میں ان تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر بعض اطلاعات اور قیاس آرائیاں بھی گردش کرتی رہی ہیں۔ ان کے حامیوں نے ان خبروں کو خلافِ حقیقت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی مہم کا مقصد مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں انتشار اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اور کسی بھی سیاسی شخصیت کی کارکردگی پر تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن غیر مصدقہ خبروں اور الزام تراشی کو سیاسی ہتھیار بنانا کسی کے حق میں نہیں۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور عام صارفین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کی عام انتخابات میں کامیابی یا ناکامی کو بھی وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی شکست جمہوری سیاست کا حصہ ہے اور کسی ایک انتخابی نتیجے کو کسی شخص کی پوری زندگی اور خدمات کا آخری فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی ایسے سیاسی رہنما جنہیں کسی ایک مرحلے پر انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا، بعد میں اپنی صلاحیت، کردار اور خدمات کے باعث زیادہ بڑے قومی کردار کے حامل بنے۔ سیاست میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان کامیابی اور ناکامی دونوں صورتوں میں اپنے اصول، نظریے اور عوامی خدمت کے راستے پر قائم رہتا ہے۔

آزاد کشمیر آج ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ حکومت کے سامنے گڈ گورننس، روزگار، تعلیم، صحت، معیشت، ادارہ جاتی اصلاحات اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج چاہتے ہیں۔ نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی قابلیت کو سفارش پر ترجیح دی جائے۔ سرکاری ادارے چاہتے ہیں کہ انہیں مضبوط اور سیاسی مداخلت سے آزاد بنایا جائے۔ عام شہری چاہتا ہے کہ ریاستی وسائل امانت سمجھ کر استعمال ہوں۔ ایسے حالات میں قانون، انتظام اور سیاست کو سمجھنے والے افراد کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کے حامیوں کے نزدیک ان کی سابقہ وزارت، قانونی تعلیم، انتظامی تجربہ، سیاسی وابستگی اور میرٹ پر مبنی نظام کے لیے ان کی کوششیں انہیں مستقبل میں آزاد کشمیر کے کسی بڑے ریاستی منصب کے لیے قابلِ غور بناتی ہیں۔ یہ فیصلہ بہرحال آئین، قانون، سیاسی قیادت اور عوامی مینڈیٹ کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن اہل اور تجربہ کار لوگوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہر ریاست کی ضرورت ہے۔

بڑے منصب صرف بڑے ناموں سے نہیں ملنے چاہئیں۔ بڑے منصب کے لیے بڑا ظرف، وسیع وژن، قانون کی سمجھ، انتظامی صلاحیت، سیاسی برداشت، دیانت اور ریاستی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا حوصلہ ضروری ہے۔ اختیار ملنے کے بعد انسان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر اختیار کو اداروں کی مضبوطی، میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی سیاست کی کامیابی ہے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے بھی سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے خاندان کی قربانیوں اور سیاسی خدمات کی روایت کو نئی نسل کے تقاضوں، جدید گورننس اور ریاستی ضرورتوں کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ ان کے پاس قانون کی تعلیم ہے، عملی وکالت کا تجربہ ہے، پارلیمانی و سیاسی ماحول سے شناسائی ہے، وزارت کا تجربہ ہے اور عوامی و سیاسی زندگی میں کئی برس گزارنے کا پس منظر ہے۔ اگر ان تمام صلاحیتوں کو ایک واضح ریاستی وژن کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو ان کا کردار ٹیکنوکریٹ نشست سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔

آزاد کشمیر کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو تقسیم نہیں اتحاد پیدا کرے، نفرت نہیں تعمیر کی بات کرے، سفارش نہیں میرٹ کو ترجیح دے اور ذاتی مفاد نہیں بلکہ ریاستی مفاد کو مقدم رکھے۔ اگر سیاست کا مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا ہے تو ہر اس شخص کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے جو اپنی تعلیم، تجربے اور صلاحیت کو عوام اور ریاست کے لیے وقف کرنے کا عزم رکھتا ہو۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کا سیاسی سفر اسی امید کا ایک حوالہ ہے۔ ایک قربانی دینے والے خاندان کا بیٹا، ایک محبِ وطن کشمیری، مسلم لیگ (ن) کا سیاسی کارکن، لنکنز اِن سے بیرسٹری کرنے والا قانون دان، عملی وکالت کا تجربہ رکھنے والا شخص، سابق وزیر تعلیم اور میرٹ و ادارہ جاتی اصلاحات کے حامی کی حیثیت سے ان کے سامنے ایک نیا سیاسی مرحلہ موجود ہے۔ ٹیکنوکریٹ نشست ان کے لیے شاید ایک اہم موقع ہو، لیکن اگر ان کی صلاحیتیں ریاستی مفاد میں درست سمت میں استعمال کی جائیں تو یہ کسی بڑے سیاسی سفر کا آغاز بھی بن سکتی ہے۔

آخرکار عہدے عارضی ہوتے ہیں، انتخابات کے نتائج بدلتے رہتے ہیں اور سیاسی حالات نئی کروٹ لیتے رہتے ہیں، مگر کردار، خدمت اور اصول باقی رہتے ہیں۔ ایک انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے فیصلوں سے ہوتی ہے۔ اگر کسی فیصلے سے ایک غریب نوجوان کو میرٹ پر روزگار ملے، اگر کسی اصلاح سے ادارہ مضبوط ہو، اگر قانون کی تعلیم عوامی خدمت میں استعمال ہو اور اگر سیاست کو ذاتی اقتدار کے بجائے ریاستی مفاد سے جوڑا جائے تو یہی وہ سرمایہ ہے جو تاریخ میں باقی رہتا ہے۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کے لیے بھی سب سے بڑا اعزاز کوئی وزارت، نشست یا منصب نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آنے والی نسلیں انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد کریں جس نے اپنے خاندان کی قربانیوں کی لاج رکھی، اپنی تعلیم کو اپنی ریاست کے لیے استعمال کیا، میرٹ کو سفارش پر ترجیح دینے کی کوشش کی، مسلم لیگ (ن) سے اپنی سیاسی وابستگی کو نبھایا اور آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی، عوامی فلاح اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی رشتے کو اپنی سیاسی سوچ کا حصہ بنایا۔

ریاستیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں؛ صرف سیاست سے نہیں، قیادت سے بنتی ہیں؛ اور صرف اقتدار سے نہیں بلکہ میرٹ، قانون، دیانت، قربانی اور عوامی خدمت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ بیرسٹر افتخار گیلانی کے سیاسی سفر کا اصل امتحان بھی یہی ہے اور ان کے لیے مستقبل کا سب سے بڑا موقع بھی۔