افتخار گیلانی کو قائد ایوان بنانے کی بازگشت، طارق فاروق کا ردعمل آگیا

اسلام آباد( عامر اقبال ہاشمی سے)پاکستان مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق کا ٹیکنوکریٹ کی نشست کے امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزادکشمیر بنائے جانے سے متعلق افواہوں پر ردعمل سامنے آگیا ہے۔

چوہدری طارق فاروق کا سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہنا ہے کہ کچھ عناصر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی کے بارے میں خلاف حقیقت اور بے بنیاد خبریں سوشل میڈیا پر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری تقریب میں افسران کی بگھی پر سواری،وزیراعظم کا سخت نوٹس،انتباہ جاری

انہوں نے کہا کہ کہ بیرسٹر افتخار گیلانی ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے امیدوار ہیں۔

طارق فاروق کا کہنا تھا کہ افتخار گیلانی کے خلاف دانستہ طور پر چلائی جانے والی اس مہم کا مقصد مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں انتشار اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہےجسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی مختلف ملاقاتوں اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد خبروں کی سختی سے تردید کی جاتی ہے۔

طارق فاروق کا کہنا تھا کہ ہم سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور جماعتی ساتھیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں اور صحافت و سوشل میڈیا ایکٹوازم میں حقائق، ذمہ داری اور دیانت داری کو ترجیح دیں۔

مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ منفی پروپیگنڈا اور اوچھے ہتھکنڈے مسلم لیگ (ن) کے اتحاد اور سیاسی عزم کو متاثر نہیں کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ سوشل میڈیا اکائونٹس سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی ہفتہ 22اگست کو دوپہر 1 بجے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات کا انتظام کر دیا گیا ہے جس میں انہیں اہم ذمہ داری دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ اکائونٹس سے دعویٰ کیا گیا کہ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ملاقات کیلئے طلب کرلیاہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی کا پہلا اجلاس 24 اگست کو طلب، ممبران اسمبلی حلف اٹھائیں گے

بیرسٹر افتخار گیلانی مظفرآباد شہر سے پیپلزپارٹی کے سردار مختار عباسی سے شکست کھا گئے تھے جس کے بعد انہیں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسمبلی میں لایا جا رہا ہے اوراب افواہیں گرم ہیں کہ انہیں قائد ایوان بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی یا د رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادراور مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق کے مابین وزیراعظم کی نشست کیلئے مقابلہ تھا۔

اب بیرسٹر افتخارگیلانی اور کرنل(ن) وقار احمد نور کو بھی اس دوڑ میں شامل قرار دیا جا رہا ہے جس کا حتمی فیصلہ میاں نوازشریف کریں گے۔

کیا مخصوص نشست پر ممبر اسمبلی بننے والا آزادکشمیر کا وزیراعظم بن سکتا ہے؟

آزادکشمیر کی حکومتی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسا ہو چکا ہے کہ مخصوص نشست پر ممبر اسمبلی بننے والا پورے5سال وزیراعظم رہا اوریہ ریکارڈ مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان(مرحوم) کے نام رہا ہے۔

1990 کے بعد راجہ ممتاز حسین راٹھور وزیراعظم اور سردار عبدالقیوم خان(مرحوم) صدر بنے تھےلیکن یہ اسمبلی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور راجہ ممتاز حسین راٹھور نے9ماہ بعد اسمبلی تحلیل کر دی۔

1991 میں دوبارہ انتخابات ہوئے۔ اس انتخاب میں مسلم کانفرنس نے واضح کامیابی حاصل کی جس پر وزارت عظمیٰ کیلئے سردار عبدالقیوم خان(مرحوم) نے صدارت چھوڑ دی اور مخصوص نشست ٹیکنو کریٹ اور علماء ومشائخ کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق سردار عبدالقیوم خان نے 29 جولائی 1991 کو علماء ومشائخ  کی مخصوص نشست پر اسمبلی کی رکنیت حاصل کی اور29 جولائی 1991 ہی کو وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

خواجہ نورالامین نامی وکیل نے 30 جولائی 1991 کو یعنی عبدالقیوم خان کے رکن منتخب ہونے کے اگلے ہی دن ان کے علماء و مشائخ کی مخصوص نشست پر انتخاب کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔

ان کا بنیادی موقف یہ تھا کہ عبدالقیوم خان علماء ومشائخ کی مخصوص نشست کے لیے مطلوبہ اہلیت پوری نہیں کرتے۔آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے یہ درخواست 4 ستمبر 1991 کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کر دی۔

نورالامین نے اس کے بعد سپریم کورٹ میں جانے کی کوشش کی لیکن 10 فروری 1992 کو سپریم کورٹ نے بھی ان کی پٹیشن مسترد کر دی۔

1994 میں معاملہ دوبارہ اٹھا،میجر جنرل (ر) محمد حیات خان نے 27 جون 1994 کو دوبارہ عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالت نے ان کی اپیل بھی خارج کردی ۔

یہ بھی پڑھیں:فیصل راٹھور کے اعزاز میں شاندار تقریب،مسائل حل پر وزیراعظم کو سلیوٹ،آئی جی لیاقت علی ملک

یوں سردار عبدالقیوم خان (مرحوم)29جولائی1991 سے29جولائی 1996 تک آزادکشمیر کے وزیراعظم رہے۔

سردار عبدالقیوم خان ریاستی جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ تھے اور انہوں نے ایوان کو متحد اور قابو میں رکھا لیکن اب بیرسٹر افتخار گیلانی کے معاملہ میں ایسا نہیں لگ رہا کہ (ن) لیگ کے منتخب ارکان ان کو وزیراعظم قبول کرینگے یا ان کو چلنے دینگے۔