امریکی سفیر کا بیان کشمیر کی تاریخی حیثیت مسخ کرنے کی کوشش، فیصل ممتاز راٹھور

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے امریکی سفیر کے سری نگر میں کشمیر کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کردی۔

وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر کا بیان تاریخی حقائق، کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھورنے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے۔

کسی بھی ملک یا سفارتکار کی جانب سے یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا نہ صرف کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار ہے بلکہ خطے کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ثاقب مجید، راجہ ریاست،راجہ آصف، عمیرنعیم، وقارنور،ضیاء القمرکی کامیابی چیلنج

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ امریکی سفیر کا سری نگر میں اس نوعیت کا بیان دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

عالمی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کی حمایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارت کے غیر قانونی قبضے، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے شامی وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی کی ملاقات

مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز عالمی سطح پر پہنچانے کیلئے اپنی سفارتی اور سیاسی کوششیں مزید مؤثر بنائے گی۔