اسلام آباد: سپریم کورٹ اف پاکستان کے رجسٹرار آفس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی درخواست اعتراضات عائد کر کے واپس کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے گئے اعتراض کی بنیادی وجہ نظرثانی درخواست کے ساتھ مطلوبہ پیپر بکس (Paper Books) کا مکمل نہ ہونا ہے۔ آئینی و عدالتی عمل کے تحت اگر کسی درخواست کے ساتھ تمام ضروری متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ ضابطے کے مطابق شامل نہ ہوں تو رجسٹرار آفس اس پر انتظامی اعتراض عائد کرتے ہوئے فائل واپس بھیج دیتا ہے تاکہ خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
حکومت کا مؤقف اور قانونی حکمت عملی:
وفاقی حکومت کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس عبوری حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی جس میں بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی فیصلے کے خلاف حکومتی درخواست پر سپریم کورٹ کا اعتراض، درخواست واپس
حکومتی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی بھی سزا یافتہ یا زیرِ حراست قیدی کے علاج اور اسے جیل سے باہر لانے کے لیے ‘پاکستان پریزن رولز 1978’ کے تحت مخصوص قانونی و انتظامی طریقہ کار موجود ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ قیدی کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم انتظامی اختیارات اور پریزن رولز کے منافی ہے اور اس سے دیگر قیدیوں کے معاملے میں بھی یکسانیت کا قانون متاثر ہو سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا حکم اور موجودہ صورتحال:
سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم نامے میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر کے ان کا جامع طبی معائنہ کرانے اور اسپتال کے اطراف امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور وکلا کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق نظرثانی درخواست کا اس مرحلے پر واپس ہونا معاملے کے میرٹ یا تکنیکی سچائی پر کسی حتمی فیصلے کو ظاہر نہیں کرتا۔ رجسٹرار آفس کے انتظامی اعتراضات اور پیپر بکس کی خامیاں دور کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے یہ نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد ہی عدالت میں اس کی باقاعدہ سماعت کا جائزہ لیا جائے گا۔



